خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 956
خطبات طاہر جلدم 956 خطبه جمعه ۶ ؍دسمبر ۱۹۸۵ء یہ ہے کہ خالی نماز ایک بے حفاظت چیز ہے اور وہ فائدے نہیں بخش سکتی جو ایک بھری ہوئی نماز کے فوائد ہوتے ہیں۔اور ان مقاصد کوحل نہیں کرتی جو مقاصد ایک بھری ہوئی نماز سے حاصل ہو سکتے ہیں۔بھری ہوئی نماز سے کیا مراد ہے؟ جیسا کہ میں نے بیان کیا سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے نماز بھرنی چاہئے ، پھر ان مطالب سے نماز بھرنی چاہئے جو نماز کے الفاظ میں موجود ہیں۔جب ہم الفاظ ادا کرتے ہیں تو چونکہ بہت سے لوگ نماز کے مطلب سے ہی بے خبر ہوتے ہیں یعنی معنی سے بے خبر ہوتے ہیں اس لئے وہ بے چارے الفاظ تو کہہ جاتے ہیں لیکن انہیں پتہ نہیں لگتا کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں۔میں نے پہلے بھی اس مضمون کو بیان کیا تھا، اس کی میں تکرار نہیں کرنا مگر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ باجماعت نماز کے بعد نماز کے معانی سکھانے اور مطالب سکھانے کا انتظام ہونا چاہئے۔معانی سے میری مراد یہ ہے کہ سادہ معانی اور مطالب سے میری مراد یہ ہے کہ معنوں کے اندر جو گہرے مضمون پائے جاتے ہیں ان سے آگاہ کیا جائے۔یہ کام بچپن سے شروع کرنا چاہئے۔اگر آپ بچپن میں نماز معانی کے ساتھ اور مطالب کے ساتھ از بر کروادیں تو بچے کا ذہن اتنا گہرا اثر اور نقش قبول کرتا ہے کہ پھر وہ مٹ ہی نہیں سکتا، اس کے لئے ہمیشہ کے لئے ایک ترقی کا رستہ کھل جاتا ہے۔اس رستے پر چلنا یا نہ چلنا اس کا کام ہے مگر رستہ بہر حال اسے میسر آجاتا ہے۔بڑے آدمی پر محنت بھی بہت زیادہ کرنی پڑتی ہے اور جو محنت کی جائے اس کا نتیجہ اتنا اچھا نہیں نکلتا جتنا بچے پر محنت کرنے کا نتیجہ نکلتا ہے لیکن بہت سے ایسے بچے ہیں جو اس عمر سے گزر بھی چکے اور کسی نے ان کو نماز نہیں سکھائی۔یعنی اس کے معانی نہیں بتائے ، اس کے مطالب سے آگاہ نہیں کیا اور جوانی کے دور میں داخل ہو گئے ہیں، بہر حال ان پر جوانی میں محنت کرنی پڑے گی۔ایسے بوڑھے بھی ملیں گے جو جوانی سے گزر کر بڑھاپے میں داخل ہو گئے ہیں اور نماز کے معانی سے نا آشنا ہیں۔ان پر بڑھاپے میں محنت کرنی پڑے گی اور جتنی عمر بڑھتی چلی جائے گی اتنی آپ کو زیادہ محنت کرنی پڑے گی۔یہ چونکہ ایک نسل کا کام نہیں ہے ، ایک دور کا کام نہیں ہے، قیامت تک کے لئے اپنی نسلوں کی حفاظت کی ذمہ داری خدا تعالیٰ ہم پر ڈالتا ہے اس لئے اسے آج شروع کریں۔کل آپ کے بزرگوں نے جو آپ پر محنت کی تھی اس کا پھل آج آپ کھا رہے ہیں۔کل کے بچوں پر آپ نے محنت کرنی ہے اور کل کی آنے والی نسلوں کو آپ نے پھل عطا کرنے ہیں۔اس لئے بزرگوں کی محنت کا شکریہ ادا کرنے کا