خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 945
خطبات طاہر جلدم 945 خطبه جمعه ۲۹/ نومبر ۱۹۸۵ء عام انسان کا تو دل دہل جاتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ میں تو مارا گیا۔میرے پاس تو کچھ بھی نہیں اور بہت سے لوگ ہیں جو اس قسم کے خط بھی لکھتے ہیں مجھے کہ ہم نے تو خطبہ سنا ہے، ہم نے فلاں جگہ پڑھا ہے نماز یہ ہوتی ہے ہماری تو جان اس فکر سے نکل گئی ہے کہ ہماری تو پھر نماز ہی کوئی نہیں ، اور اگر نماز میں وہ لذت نہیں آتی تو کیا ہم اندھے اٹھائیں جائیں گے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وَمَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ اعمی کی ایک ایسی لطیف تفسیر فرما دی کہ جس کے نتیجہ میں کمزوروں کے خطرے اور خد شے بھی دور ہو گئے۔فرمایا اگر دو چار دفعہ بھی لذت محسوس ہو جائے تو اس چاشنی کا حصہ مل گیا “۔جو اندھا ہو اس کو تو ایک دفعہ بھی نظر نہیں آتا۔فرمایا: تم ڈر نہ جانا کہیں اگر تمہاری نمازوں میں کمزوری ہے تو تم ان اندھوں میں نہیں ہو جن کے متعلق فرمایا ہے وَ مَنْ كَانَ فِي هذه اَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلَى که جو اس دنیا میں اندھے ہیں وہ آخرت میں بھی اندھے اٹھائے جائیں گے۔اگر تم اندھے ہوتے تو تمہیں تو ایک دفعہ بھی نماز میں لذت محسوس نہ ہوتی۔پس جن کو چند دفعہ بھی اس نماز کی لذت سے آشنائی حاصل ہوگئی وہ خدا کے حساب میں اندھے نہیں لکھے جائیں گے۔وہ اہل بصیرت لوگوں میں شمار کئے جائیں گے، اہل بصارت لوگوں میں شمار کئے جائیں گے۔پس جہاں ایک دفعہ شوق دلایا جہاں اعلیٰ نماز کے نمونے دکھا کے ان کے لئے طلب پیدا فرمائی وہاں کمزوروں کو کیسا سہارا بھی عطا کیا ہے۔ایک چھوٹے سے پیرا کے اندر، چند سطروں کے اندر ایسے عظیم الشان مطالب بیان فرما دیئے ہیں جس سے نماز کے نتیجہ میں جو بار یک در بار یک تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں یا ہونی چاہئیں ان کا ایک انتہائی حسین نقشہ ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔پھر فرماتے ہیں: ” جب کبھی ایسی حالت ہو کہ انس اور ذوق جو نماز میں آتا تھا وہ جاتا رہا ہے۔تو چاہئے کہ تھک نہ جاوے اور بے حوصلہ ہو کر ہمت نہ ہارے بلکہ بڑی مستعدی کے ساتھ اس گمشدہ متاع کو حاصل کرنے کی فکر کرے اور اس کا علاج ہے تو بہ، استغفار ، تضرع۔بے ذوقی سے ترک نماز نہ کرے بلکہ نماز کی اور کثرت کرے۔