خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 88
خطبات طاہر جلدم 88 خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۵ء کرنے والی ثابت ہوئی اور الزام لگانے والوں کا اپنا یہ حال ہے کہ زبانیں پوری طرح بے باک ہو چکی ہیں ، خدا کا خوف نہیں رہا اور وہ ایک دوسرے کے فرقوں کو احمدیت کے علاوہ بھی خود کاشتہ پودا قرار دیتے چلے جاتے ہیں۔یہ محاورہ ان کو ایسا پسند آیا ہے کہ چھوڑتے ہی نہیں اور بعض جگہ خود اپنے متعلق تسلیم کرتے ہیں اور لوگوں کو بتاتے ہیں کہ ہاں ہماری بنیاد انگریزوں نے رکھی تھی اور یہ ایسے تاریخی حقائق ہیں جن کو آپ بدل نہیں سکتے پھر وہ اپنی زندگی اور اپنے قیام کے مقاصد بھی بیان کرتے ہیں اور انہیں تسلیم کرتے چلے جاتے ہیں۔آج یہی ٹولہ ہے جس کے متعلق تاریخی حقائق سے ثابت ہے کہ انگریز نے ہمیشہ اس کو خاص مقاصد کی خاطر استعمال کیا ہے اور انہیں مالی فوائد پہنچا کر ان سے بعض تاریخی کام لئے ہیں۔یہی فرقہ آج پاکستان پر مسلط کیا جارہا ہے اور باقی فرقے جو بھاری اکثریت میں ہیں انہیں ہوش نہیں آنے دی جارہی کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف اس قدر گند اچھالا جارہا ہے کہ لوگ بیچارے ایک ہی طرف دیکھ رہے ہیں ان کو کوئی اور شکل وصورت نظر ہی نہیں آ رہی اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہر خطرہ ، ہر ظلم احمدیت کی طرف سے ہو رہا ہے اور یہی ایک خطرہ رہ گیا ہے اور تو کوئی خطرہ ہی نہیں رہا چنانچہ اس جھوٹے شور شرابے کے نتیجہ میں وہ اپنی حالتوں سے غافل ہو گئے ہیں اور انہیں کچھ پتہ نہیں کہ ہمارے ساتھ کیا سازش ہورہی ہے اور کیا ہمارے ساتھ ہونے والا ہے۔چنانچہ آپ دیکھیں گے کہ کچھ عرصہ کے اندر اگر یہ صورت حال اسی طرح جاری رہی تو پاکستانی فوج کی طاقت سے ایک مذہبی فرقہ پاکستان پر ہمیشہ کے لئے مسلط کر دیا جائے گا اور اسی کا نام ”اسلام“ رکھا جائے گا اور اس کے خلاف جو کچھ بھی عقائد ہیں انہیں کسی نہ کسی رنگ میں مطعون کیا جائے گا۔شیعوں کے خلاف جو کچھ وہاں ہو چکا ہے وہ آپ کے علم میں ہے اور اخباروں میں چھپا ہوا ہے اور جو کچھ اندر ہی اندر تیاریاں ہو رہی ہیں اس کو وہی لوگ زیادہ بہتر جانتے ہیں جو کر رہے ہیں لیکن میں آپ کو بتا تا ہوں کہ وہ بھی امن میں نہیں ہیں۔جھوٹے خیال میں بیٹھے ہیں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ وہ امن میں ہیں۔بریلویوں کے متعلق جو کچھ ہوتارہا ہے وہ آپ کے علم میں ہے کیونکہ اخبارات میں شائع ہوتا