خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 87 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 87

خطبات طاہر جلدم 87 خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۵ء اور تمہارے چھوٹے اور تمہارے بڑے سب مل کر میرے ہلاک کرنے کے لئے دعائیں کریں یہاں تک کہ سجدے کرتے کرتے ناک گل جائیں اور ہاتھ شل ہو جائیں تب بھی خدا ہر گز تمہاری دعا نہیں سنے گا اور نہیں رکے گا جب تک وہ اپنے کام کو پورا نہ کرلے۔۔۔۔۔۔۔۔پس اپنی جانوں پر ظلم مت کرو۔کا ذبوں کے اور منہ ہوتے ہیں اور صادقوں کے اور۔خدا کسی امر کو بغیر فیصلہ کے نہیں چھوڑتا۔۔۔۔۔۔جس طرح خدا نے پہلے مامورین اور مکذبین میں آخر ایک دن فیصلہ کر دیا اسی طرح وہ اس وقت بھی فیصلہ کرے گا۔خدا کے مامورین کے آنے کے لئے بھی ایک موسم ہوتے ہیں اور پھر جانے کے لئے بھی ایک موسم۔پس یقیناً سمجھو کہ میں نہ بے موسم آیا ہوں اور نہ بے موسم جاؤں گا۔خدا سے مت لڑو ! یہ تمہارا کام نہیں کہ مجھے تباہ کر دو۔(تحفہ گولر و سید روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۴۹-۵۰) (چونکہ وقت زیادہ ہورہا ہے اس لئے اس مضمون کا دوسرا حصہ انشاء اللہ تعالیٰ اگلے خطبہ میں بیان کروں گا۔بہت سے حوالے میں نے چھور دیئے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ مضامین ایسے ہیں جن کے بیان کرنے سے خطبات لازماً لمبے ہو جائیں گے اس لئے ضروری نہیں کہ ہر مضمون جس کو میں لوں وہ ایک ہی خطبہ میں ختم بھی ہو جائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بعض خطبوں میں دو تین نکات جو چھوٹے ہوں اکٹھے بیان ہو جائیں۔بہر حال میرا اندازہ ہے کہ ایک دو مہینہ کے اندر یہ سلسلہ مکمل ہو جائے گا۔) پس جہاں تک خود کاشتہ پودے کا الزام اور انگریز کی تعریف کا تعلق ہے یہ بات تو اب کھل کر جماعت کو معلوم ہو جانی چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کبھی اشارہ بھی جماعت احمدیہ کے متعلق انگریز کا خود کاشتہ پودا“ کے الفاظ استعمال نہیں فرمائے بلکہ جس خاندان کا ذکر کیا وہ سنی اور اہل حدیث خاندان تھا یعنی ملے جلے لوگ تھے اور اس کے متعلق بھی مذہبی طور پر نہیں بلکہ خاندانی لحاظ سے اسے خود کاشتہ پودا کہا۔اس کے متعلق بھی سو فیصد قطعیت کے ساتھ ثابت ہے کہ انہیں انگریز سے ایک ذرہ بھی مالی منفعت نہیں پہنچی بلکہ انگریزی حکومت ان کی جائیدادوں کو غصب