خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 942
خطبات طاہر جلدم 942 خطبه جمعه ۲۹/ نومبر ۱۹۸۵ء نماز کے ذریعہ اعلیٰ مدارج تک پہنچنے کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بکثرت ارشادات ملتے ہیں اور یہ مضمون بھی ایسا ہے جس میں آپ منفرد ہیں۔تمام تیرہ صدیوں کے بزرگوں کے ارشادات کو آپ اکٹھا کر لیں جو نماز کے اعلیٰ مطالب اور لطائف پر مشتمل ہوں تو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات ان پر بھاری نظر آئیں گے۔فرماتے ہیں: نماز کی ظاہر صورت پر اکتفا کرنا نادانی ہے۔اکثر لوگ رسمی نماز ادا کرتے ہیں اور بہت جلدی کرتے ہیں جیسے ایک ناواجب ٹیکس لگا ہوا ہے جلدی گلے سے اتر جاوے۔بعض لوگ نما ز تو جلدی پڑھ لیتے ہیں لیکن اس کے بعد دعا اس قدر بہی مانگتے ہیں کہ نماز کے وقت سے دگنا تگنا وقت لے لیتے ہیں حالانکہ نماز تو خود دعا ہے جس کو یہ نصیب نہیں ہے کہ نماز میں دعا کرے اس کی نماز ہی نہیں“۔( ملفوظات جلد ۳ صفحه ۵۹۱) فرمایا: یا د رکھو اس نے ایمان کا حظا نہیں اٹھایا جس نے نماز میں لذت نہیں پائی۔نماز صرف ٹکروں کا نام نہیں ہے۔بعض لوگ نماز کو تو دو چار چونچیں لگا کر جیسے مرغی ٹھونگیں مارتی ہے ختم کرتے ہیں اور پھر لمبی چوڑی دعا شروع کر دیتے ہیں۔( ملفوظات جلد اصفحہ ۴۰۲) پھر فرمایا: قرآن شریف میں دو جنتوں کا ذکر ہے ایک ان میں سے دنیا کی جنت ہے اور وہ نماز کی لذت ہے۔نماز خواہ نخواہ کا ٹیکس نہیں ہے بلکہ عبودیت کو ربوبیت سے ایک ابدی تعلق اور کشش ہے۔اس رشتہ کو قائم رکھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے نماز بنائی ہے عبودیت کو ربوبیت سے ایک ابدی تعلق ہے اور کشش ہے اس رشتے کو قائم رکھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے نماز بنائی ہے۔یہ ایک بہت ہی گہرا عارفانہ کلام ہے۔اس لئے اسے میں نے دوبارہ پڑھا ہے آپ کے سامنے یہ نہیں فرمایا کہ نماز کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندے کا تعلق قائم ہوتا ہے۔یہ