خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 937 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 937

خطبات طاہر جلدم 937 خطبه جمعه ۲۹/ نومبر ۱۹۸۵ء اس سلسلہ میں سب سے پہلے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ایک حدیث آپ کو سنا تا ہوں۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال الا ادلكم على ما يمحو الله به الخطايا ويرفع به الدرجات قالوا بلى يا رسول الله قال اسباغ الوضوء على المكاره وكثرة الخطا الى المساجد وانتظار الصلوة بعد الصلوة فذالكم الرباط فذالكم الرباط (مسلم کتاب الطہارۃ باب فضل اسباغ الوضوء حدیث ۳۶۹) یعنی حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اور یہ ایک سوال کے رنگ میں فرمایا الا ادلكم على ما يمحو الله به الخطایا کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ وہ کیا چیز ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ خطاؤں کو دھودیتا ہے اور دور فرما دیتا ہے اور درجات کو بلند کرتا ہے انہوں نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ فرمایا اسباغ الوضوء على المکارہ کہ مکارہ کے با وجو د وضو کو اختیار کرنا اور وضو کے ذریعہ اپنے جسم کو نماز کے لئے پاک کرنا۔یعنی عام حالت میں نماز کے لئے وضو کیا ہی جاتا ہے لیکن یہ کہ نماز کے لئے وضو کی تیاری ہو اور وضو کے رستے میں روکیں ہوں۔سخت سردی کا موسم ہے اور انسان ویسے ہی ٹھنڈے پانی سے ڈرتا ہے مگر یہاں تو خیر سہولتیں ہیں ایسی جگہوں پر جہاں موسم زیادہ سرد ہو اور پانی گرم کرنے کی سہولت کوئی نہ ہو وہاں بعض اوقات سخت سردی میں وضو سے سخت کراہت آتی ہے اور اسی طرح وہ عورتیں جو سنگھار بناؤ کی عادی ہوتی ہیں ان کے لئے وضو کرنا ایک بڑی مصیبت ہوتی ہے۔تیار ہو کر پارٹی پر جارہی ہیں اور نماز کا وقت آجاتا ہے یا پارٹی میں جا کر نماز کا وقت آجاتا ہے۔کتنی دفعہ وہ منہ دھوئیں اور پھر دوبارہ سنگھار کریں۔تو کئی قسم کے عوارض بھی ایسے ہوتے ہیں جن سے وضو میں تکلیف محسوس ہوتی ہے۔تو فرمایا اسب ماغ الوضوء - اسباغ کہتے ہیں بہت اچھی طرح وضو کا کرنا صرف یہی نہیں کہ وضو کرنا بلکہ خوب پیار اور محبت سے وضو کرنا۔باوجود اس کے کہ کثرت کے ساتھ طبعی روکیں موجود ہیں۔اس کا نام ہے سچا اور حقیقی وضو اور اس کے نتیجہ میں گناہ دھلتے ہیں اور دور ہوتے ہیں۔اور پھر فرمایا مسجد میں کثرت سے آنا جانا كثرة الخطا الى المساجد۔یہ عجیب بات ہے کہ یہاں یہ نہیں فرمایا کہ اس کے بعد نماز پڑھنا بلکہ مضمون اور بیان ہو رہا ہے بالکل۔یہاں محبت اور تعلق کا مضمون بیان ہو رہا ہے اس لئے نماز کا ذکر نہیں بلکہ ایسے لوگوں کو نماز کے ساتھ کیسے تعلق ہووہ