خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 933 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 933

خطبات طاہر جلد چہارم 933 خطبه جمعه ۲۲/نومبر ۱۹۸۵ء کے نتیجہ میں آپ سوسائٹی کو باندھنے والے بن رہے ہیں یا سوسائٹی کو کاٹنے والے بنے ہوئے ہیں۔اس طرح آپ کو کھلی کھلی واضح شکل اپنی نظر آنی شروع ہو جائے گی۔ورنہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔واقعی بات یہی ہے کہ عالم ہو، بڑا قابل ہو، بہت مفکر ہو، بہت مطالعہ رکھتا ہو قرآن و حدیث کا جب تک اللہ کا فضل نصیب نہ ہو اس وقت تک انسان اپنے مخفی بتوں کو جانچ نہیں سکتا، پہچان نہیں سکتا۔پس ایک صاحب فضل نے آپ کو پہچاننے کا ذریعہ عطا کر دیا۔اس ذریعہ سے فائدہ اٹھا ئیں۔اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: نماز جمعہ کے بعد حسب سابق عصر کی نماز پڑھی جائے گی یعنی دونوں جمع ہوں گی اور نماز عصر کے معا بعد مکرم ومحترم چوہدری بشیر احمد صاحب کاہلوں مرحوم کی نماز جنازہ غائب پڑھی جائے گی۔مکرم چوہدری انور احمد صاحب کاہلوں انگلستان کی جماعت کے امیر ہیں وہ آج کل اسی لئے لاہور گئے ہوئے ہیں کہ ان کے والد کی پریشان کن علالت کی اطلاع آئی تھی۔یہ بھی ان پر خدا کا فضل ہوا کہ ایسی حالت میں پہنچ گئے کہ جب وہ ابھی گفتگو بھی کر سکتے تھے پہچانتے بھی تھے اور ایک دوسرے سے محبت کے ساتھ مل سکے اور سمجھ کر مل سکے لیکن کچھ دنوں کے بعد ان کی وفات ہوگئی ہے۔اس لئے خاص طور پر ان کے لئے نماز جنازہ میں دعا کی جائے۔چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کے بھی یہ بڑے پرانے ساتھیوں میں سے تھے۔بہت گہری محبت رکھتے تھے آپس میں۔ان کے جانے کے بعد اس خاندان میں اوپر تلے چوہدری صاحب سے قرب رکھنے والوں میں کئی وفا تیں ہوئی ہیں۔پہلے چوہدری اسد اللہ خان صاحب کی وفات ہوئی ، پھر آپا آمنہ مرحومہ کی وفات ہوئی، پھر آپ چوہدری بشیر احمد صاحب یہ ایک گروہ ہی ہے اور بعض لوگ اس کے نتیجہ میں بعض دفعہ یہ خیال بھی کرتے ہیں کہ شاید ہم تعلق لوگوں کو خدا تعالیٰ اکٹھا ہی گروہ کی شکل میں بلایا کرتا ہے۔بہرحال اس کے راز وہی بہتر سمجھتا ہے مگر اس سارے گروہ کواللہ تعالیٰ اپنے قرب کی جنتیں عطا فرمائے۔