خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 931 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 931

خطبات طاہر جلد چہارم 931 خطبه جمعه ۲۲ نومبر ۱۹۸۵ء کے ذریعے بار بار حقوق العباد کی طرف توجہ دلائی اس وقت جتنی شکائتیں اور جتنے تکلیف دہ واقعات آئے دن میرے سامنے آیا کرتے تھے اس کا عشر عشیر بھی اب باقی نہیں رہا۔ کچھ تو یہ وجہ ہے یقیناً اس وقت بھی میں نے محسوس کیا تھا کہ ہر خطبہ کے بعد جب جماعت میں اس کو پھیلایا گیا تو کثرت سے آپس میں صلحیں ہوئیں ، کثرت سے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ معافیاں مانگی گئیں ۔ ایسے بھی لوگ تھے جو ساری عمر اپنے آپ کو مظلوم سمجھتے رہے لیکن دوڑ کر پہلے گئے اور اپنے بھائی سے، معافی مانگی ۔ تو جماعت کے اندر جو اخلاص کا ایک اعلیٰ معیار پایا جاتا ہے تسلیم اور رضا پایا جاتا ہے تسلیم اور رضا کا ایک اعلیٰ معیار پایا جاتا ہے اس کے نتیجہ میں خدا کے فضل کے ساتھ وہ تبدیلیاں پیدا ہونی شروع ہوئیں۔ کچھ اس لئے بھی کہ بعد میں ابتلاء کا دور ننگا ہو کے سامنے آگیا اور جب خطرات بڑھتے ہیں تو اندرونی اصلاح کا ایک نظام خود بخود چل پڑتا ہے ۔ جب غیر حملہ کر رہا ہو تو آپس کا بھائی چارہ پہلے کی نسبت بہت بہتر شکل اختیار کر جاتا ہے، بہت مضبوط بندھنوں میں باندھا جاتا ہے۔ اس لئے یہ بھی ایک طبعی طبعی بات تھی ۔ پھر تقویٰ اللہ پیدا ہوتا ہے -- ۔ جتنا بھی تقویٰ اللہ پیدا ا ہو، ہو، خو خدا سے محبت پیدا ہو وہ توحید انسان کے وجود میں سرایت کرنے لگ جاتی ہے جس کا ذکر کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود جس اعلیٰ معیار پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ کو دیکھنا چاہتے ہیں ۔ ابھی اس سے ہم بہت پیچھے ہیں ۔ ابھی ہماری قضاء کے نظام کے ہاتھ بھرے پڑے ہیں ، ابھی ان کو تاریخیں دینی پڑتی ہیں اور تمام دنیا میں جہاں جہاں بھی قضا ہے وہ خالی ہو کے ابھی نہیں بیٹھی ۔ تو ایک یہ بھی ذریعہ اپنی توحید کو جانچنے کا جس دن قضاء کے ہاتھ خالی ہو جائیں گے اس بنا پر کہ آپس میں جھگڑے ختم ہو گئے اس دن سمجھیں کہ آپ کو خدا تعالیٰ نے توحید کی برکت سے ایک واحد قوم میں تبدیل فرمادیا ہے اور یہ توحید خالص طبعی طور پر بھی اپنا اثر دکھاتی ہے۔ وہ ساری قو میں جن میں توحید پیدا ہو جائے خواہ وہ خدا کی قائل نہ بھی ہوں وہ عموماً نا قابل تسخیر ہو جایا کرتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ یہ نہیں ہوگا میں پھر مدد کروں گا میں اپنی ذمہ داری لے لوں گا۔ میں تم پر حملہ اپنی ذات پر حملہ سمجھوں گا ۔ ایسی جماعت کو تو پھر دنیا کی کوئی طاقت مٹا نہیں سکتی ۔ ساری کائنات کی طاقت مل جائے تو خدا کی اس طاقت کے مقابل پر وہ نہیں ٹھہر سکتی ۔ نہ وہ حملہ آور ہو سکتی ہے نہ وہ نتیجہ پیدا کر سکتی ہے اگر خدا خود اس کی اجازت بھی دے دے۔ اس لئے ان دونوں باتوں کو اکٹھا سنیں اور اکٹھا ان پر عمل کریں ۔ یعنی نماز کے قیام کا توحید