خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 930
خطبات طاہر جلد چہارم 930 خطبه جمعه ۲۲ / نومبر ۱۹۸۵ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی ہیں۔آپس میں نفاق رکھتے ہیں۔ایک دوسرے کے حقوق تلف کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے ایک شکار مارا ہے۔اتنا گہرا مضمون حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے باندھا ہے اور اتنا طبعی عقلی منطقی نتیجہ نکالا ہے کہ انسان حیرت میں مبتلا ہوتا ہے۔کہ تو حید کی ایک یہ بھی تفسیر ہے لیکن جب آپ اس پر غور کرتے ہیں تو اس سے بڑھ کر حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ ہمیں کیوں پہلے یہ خیال نہیں آیا؟ یہ تو طبعی بات تھی۔ہونا یہی چاہئے ، تو حید کا معنی اس کے سوا نکلتا ہی کوئی نہیں۔وہ تو حید جس کا ذکر قرآن کریم کی اس آیت میں آیا ہے جو میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی اس تو حید کے بعد مومنوں کی جیسی جماعت وجود میں آتی ہے۔اس میں ایک دوسرے کے حق تلف کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ہر ایک ان میں سے جانتا ہے کہ وہ خدا کا مظہر ہے اور کون ہے جو جانتے بوجھتے ہوئے ،خدا کا مظہر ہوتے ہوئے ، خدا کے حقوق تلف کرنے کی کوشش کرتا ہے۔یعنی وہ صفات باری پر حملہ سمجھتے ہیں اپنے بھائی پر حملہ، اپنی ذات پر حملہ سمجھتے ہیں اپنے بھائی پر حملہ۔یہ ہے وہ کامل تو حید جس کا قرآن کریم کی اس آیت میں نقشہ کھینچا گیا ہے جس کی تشریح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہاں فرمائی ہے۔پس میں نے نمازوں کے بعد جو زور دیا تھا حقوق العباد پر یہ کوئی بے تعلق بات نہیں تھی۔امر واقعہ یہ ہے کہ نمازوں کے ذریعے آپ تو حید خالص حاصل کر سکتے ہیں اور ولایت حاصل کر سکتے ہیں اور تمام دنیا کے لئے آپ نا قابل تسخیر بن سکتے ہیں لیکن دیکھنا پڑے گا کہ آپ یہ سب کچھ حاصل کر بھی رہے ہیں کہ نہیں۔اپنے نفس کی غلط فہمی کے نتیجہ میں آپ کچھ بھی حاصل نہیں کر سکیں گئے اور چونکہ اپنے نفس کا حال معلوم کرنا ایک مشکل امر ہے اس لئے ایک شیشہ دکھایا گیا ہے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک شیشہ مہیا کر دیا ہے۔آپ اس شیشہ کے ذریعہ اپنی سوسائٹی کی تصویر تو دیکھیں۔اگر وہاں نفاق پایا جاتا ہے، اگر وہاں ایک دوسرے کے حق تلف کرنے کا رحجان پایا جاتا ہے، اگر ایثار کی بجائے حق تلفی دکھائی دیتی ہے تو پھر آپ کی نماز میں وہ بات نہیں پیدا کرسکیں جن کی خاطر نمازیں قائم کی گئیں۔پھر آپ کو تو حید کے منصب پر قائم ہونے کی توفیق نہیں ملی اور جب تک تو حید عطا نہیں ہوگی ولایت باری عطا نہیں ہوگی جب تک اللہ کی ولایت بحیثیت مجموعی مومنوں کی جماعت کو نصیب نہیں ہوتی آپ غیر کے حملہ سے محفوظ نہیں ہیں۔باوجود اس کے کہ پہلے کی نسبت مجھے نمایاں فرق نظر آ رہا ہے۔جب میں نے بعض خطبات