خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 929
خطبات طاہر جلد چہارم 929 خطبه جمعه ۲۲/نومبر ۱۹۸۵ء مولوی کہلاتے ہیں اور حدیثیں پڑھتے ہیں اپنے آپ میں ان بتوں کی شناخت نہیں کر سکتے“۔عارفانہ کلام جب سنا جاتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس میں اور غیر کے کلام میں ایک بڑا فرق ہے۔جب اللہ تعالیٰ کسی وجود میں داخل ہو جائے تو اس کے کلام میں بھی خدا تعالیٰ کی شان نظر آتی ہے۔فرمایا وہ اپنے وجود میں شناخت نہیں کر سکتے۔یہ بڑی گہری حقیقت ہے اکثر لوگ دھو کے کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں ،غفلت کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں یعنی ضروری نہیں کہ وہ منافق ہوں حقیقہ وہ اس بات سے غافل ہوتے ہیں اس بات کا علم ہی نہیں رکھتے کہ ان کے اندر مخفی بت پل رہے ہیں۔بڑی شدت کے ساتھ جب وہ غیر میں شرک کے اجزا د یکھتے ہیں یا آثار پاتے ہیں تو اس پر وہ حملہ کرتے ہیں اور بظاہر بڑی دیانت اور خلوص کے ساتھ اس پر حملہ کرتے ہیں لیکن اپنے دل میں وہی بت یا اس سے بھی زیادہ بہت ان کے علاوہ اور بھی بت پرورش پارہے ہوتے ہیں اور بے چارے شناخت نہیں کر سکتے فرمایا: ” اپنے آپ میں ان بتوں کی شناخت نہیں کر سکتے اور ان کی پوجا کرتے ہیں۔ان بتوں سے بچنا بڑے بہادر آدمی کا کام ہے۔جو لوگ ان بتوں کے پیچھے لگتے ہیں وہ آپس میں نفاق رکھتے ہیں ،ایک دوسرے کے حقوق تلف کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے ایک شکار مارا ہے۔“ تقاریر جلسه سالانه ۱۹۰۶ بحوالہ مرزا غلام حمد قادیانی اپنی تحریروں کی رو سے جلد نمبر ۲ صفحہ ۹۸۸) معاشرتی برائیوں اور بدیوں کو کس طرح توحید سے جدا کر کے یہ بتایا کہ توحید خالص ہو اور کوئی مخفی بت نہ ہو تو یہ معاشرتی بدیاں رہ ہی نہیں سکتیں۔یہ معاشرتی بدیاں شرک کی علامت ہیں اور شرک کا ایک مظہر یہ ہے کہ سوسائٹی بھی بکھر جاتی ہے۔صرف الہ الگ الگ نہیں ہوتے بلکہ ان کی پوجا کرنے والے بھی الگ الگ ہو جاتے ہیں۔یعنی تو حید کامل دنیا میں بھی مومنوں کی جماعت کو ایک تو حید کامل عطا کرتی ہے۔وہ ایک وجود بن جاتے ہیں اور ایک جماعت ہو جاتے ہیں اور اگر ان کے اندر مخفی بت ہوں اور شرک ہو اور ان کو علم بھی نہ ہو کہ ہم مخفی بتوں کی پوجا کر رہے ہیں تو نظام قدرت ان کے اس حال کو نگا کر دیتا ہے۔ایسی سوسائٹی میں آپ کو یہ علامتیں نظر آئیں گی جو