خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 928
خطبات طاہر جلد چہارم 928 خطبه جمعه ۲۲ / نومبر ۱۹۸۵ء سے رشتہ باندھا گیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا افضل الذكر لا اله الا الله اس میں ہمیں ایک اور بھی مضمون سمجھ آگیا۔ذکر کے وسیع معنوں میں نماز سب سے اہم ذکر ہے اور ذکر کی جتنی بھی شکلیں ہیں ان میں سب سے زیادہ جامع شکل نماز کی ہے فضل الذکر الصلوٰۃ نہیں فرمایا بلکہ افضل الذكر لا اله الا اللہ فرمایا جس کا معنی یہ ہے کہ نماز بھی اس کلام کے اثر کے نیچے ہے اور نماز اگر تو حید کا مظہر بنے گی تو افضل ہو جائے گی۔اگر تو حید کا مظہر نہیں بنے گی تو افضل نہیں ہوگی یعنی ہر صلوة في ذابتہ افضل نہیں ہوتی۔ہر عبادت اپنی ذات میں اس درجہ کمال کو نہیں پہنچتی جس درجہ کمال کو توحید خالص عبادت کو پہنچاتی ہے۔جب وہعبادت میں شامل ہو جاتی ہے جب وہ اس کے اندر جذب ہو جاتی ہے تب اس کے اندر ایک نئی شان پیدا ہو جاتی ہے اور افضل الذکر لا الہ الا اللہ میں سب سے پہلے پھر وہ نماز آئے گی جو تو حید میں رچ بس گئی ہے یا تو حید اس کے اندر رچ بس گئی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قیام توحید کا تعلق نماز سے باندھا ہے اور توحید کی جو تعریف فرمائی ہے اس سے یہ مضمون اور بھی زیادہ واضح ہو جاتا ہے کہ کیوں نماز میں توحید باری تعالیٰ کا داخل ہونا اس کے اندر جذب ہو جانا یہاں تک کہ دو وجود نہ رہیں یہ انتہائی ضروری ہے۔فرمایا: یہ کلمہ شریف ایک اللہ کے سوا تمام الہوں کی نفی کرتا ہے۔تمام اَنفُسِسی اور آفاقی الہ باہر نکال کر اپنے دل کو ایک اللہ کے واسطے پاک صاف کرنا چاہئے۔بعض بت ظاہر ہیں مگر بعض بہت باریک ہیں مثلاً خدا تعالیٰ کے سوا اسباب پر توکل کرنا بھی ایک بت ہے مگر یہ ایک بار یک بت ہے۔وہ بار یک بت جولوگ اپنی بغلوں کے اندر دبائے پھرتے ہیں ان کا نکالنا ایک مشکل امر ہے۔بڑے بڑے فلسفی اور حکیم ان کو اپنے اندر سے نکال نہیں سکتے۔وہ نہایت بار یک کیڑے ہیں جو کہ خدا تعالیٰ کے بڑے فضل کی خورد بین کے سوا نظر نہیں آسکتے۔وہ بڑا ضر ر انسان کو پہنچاتے ہیں وہ بت جذبات نفسانی کے ہیں کہ جو انسان کو خدا تعالیٰ اور اپنے ہم جنسوں کی حقوق تلفی میں حد سے باہر لے جاتے ہیں بہت سے پڑھے لکھے جو کہ عالم کہلاتے ہیں اور فاضل کہلاتے ہیں اور