خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 925
خطبات طاہر جلد چہارم 925 خطبه جمعه ۲۲ نومبر ۱۹۸۵ء ہے۔فرائض پر جو عمل کرے اس کے متعلق فرمایا اس کو میرا اقرب عطا ہوتا ہے اور نوافل کے متعلق فرمایا کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں ، اس کے کان بن جاتا ہوں ،اس کی آنکھیں ہو جاتا ہوں ،اس کے بازو بن جاتا ہوں، اس کے پاؤں بن جاتا ہوں، گویا اس کا سارا وجود میرا وجود ہو جاتا ہے۔یہ کیا وجہ ہے نوافل کو کیا فضیلت ہے؟ در حقیقت فرائض اور نوافل کی نسبت وہی ہے جیسے انسانی جسم کے ڈھانچے اور اس کے حسن کی نسبت ہے۔ہر انسان خواہ وہ کیسا ہی کر یہ المنظر ہو انسان ہے بنیادی طور پر اور بعض بنیادی انسانی حقوق رکھتا ہے وہ حقوق اسے بہر حال ملنے چاہئیں۔خواہ وہ بدصورت ہو خواہ وہ لنگڑا ہو خواہ وہ لولہ ہو۔جیسی بھی اس کی شکل ہو، جیسی بھی اس کی قوم ہو، جیسا بھی اس کا رنگ ہو چونکہ بنیادی انسانی ڈھانچہ رکھتا ہے اس لئے اس کے حقوق اس کو ملنے چاہئیں لیکن ضروری نہیں کہ اس سے محبت بھی ہو جائے۔محبت کے لئے نفلی چیز ہے یعنی حسن نفل اس کو کہتے ہیں جس کے نہ ہونے سے وجود نہ مٹ جائے اور ہو تو بہتر ، نہ ہو تو تب بھی وجود قائم رہے۔تو فرضوں اور نوافل میں یہی نسبت ہے۔یہ مراد نہیں ہے کہ نوافل پڑھو اور فرض بے شک نہ پڑھو جیسا کہ بعض بیچارے گمراہ ہوئے ہوئے صوفیاء نے بالآخر یہ نتیجہ نکال لیا کہ صرف نوافل کافی ہیں شریعت کی ظاہری پیروی کی ضرورت نہیں۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی کہے کہ انسان کا ڈھانچہ ضروری نہیں ہے صرف انسان کا حسن کافی ہے۔ڈھانچہ ہوگا نہیں تو حسن بنے گا کیسے؟ ہونٹ نہیں ہوں گے ناک نہیں ہوگا کان نہیں ہوں گے آنکھیں نہیں ہوں گی تو کیسے حسن سما سکتا ہے۔حسن تو ایک کوئی ٹھوس وجود نہیں ہے کسی چیز کا۔ایک تناسب کا نام ہے ایک روح کا نام ہے وہ کسی ٹھوس وجود کو چاہتی ہے تو نوافل زینت بخشتے ہیں فرائض کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم میرے ارشاد کے مطابق فرائض ادا کرتے ہو تو میں تمہیں اپنا قرب عطا کر دیتا ہوں لیکن محبت کروانے کے لئے تمہیں اپنے اندر حسن پیدا کرنا پڑے گا اور حسن نوافل کے ذریعے پیدا ہوتا ہے۔یعنی وہ چیزیں جو فرض نہیں ہیں اپنے شوق اور اپنی محبت سے کرو اور محبت کا اس مضمون سے ویسے ہی ایک طبعی تعلق ہے۔اگر ایک شخص کو کسی چیز سے محبت نہ ہو کسی مقصد سے محبت نہ ہو تو صرف فرائض ادا کرے گا اس سے زیادہ وہ آگے نہیں بڑھے گا ، کم سے کم کرنے کی کوشش کرے گا اور جب وہ کم سے کم آگے بڑھتا ہے تو محبت کے سوا اس کا محرک کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا۔اگر ز بر دستی ہو تو وہ فرض بن جائے گا پھر نفل کا مطلب ہے کوئی زبردستی نہیں ہے کوئی اور ایسی