خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 926 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 926

خطبات طاہر جلد چہارم 926 خطبه جمعه ۲۲/نومبر ۱۹۸۵ء وجہ نہیں کہ انسان مجبور ہو کر وہ کام کرے۔بغیر مجبوری کے از خود دل سے ایک حرص اٹھتی ہے، دل سے ایک تمنا پیدا ہوتی ہے کہ میں یہ کام کروں حالانکہ مجھ سے نہیں پوچھا گیا۔تو فرائض کے بعد چونکہ نفل پیدا ہی محبت کے نتیجہ میں ہوتے ہیں اس لئے کیسا عظیم الشان کلام ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اور کیسے گہرے فطرت کے راز رکھتا ہے اور کیسا خدا آپ کو عرفان بخشتا ہے۔فرائض کو قرب سے باندھنے کے بعد فرمایا اگر محبت الہی چاہتے ہو جسے ولایت کہا گیا ہے تو پھر اس کے لئے ضروری ہے کہ تم بھی محبت الہی پیدا کر و یعنی نوافل کے ذریعے اس کا قرب ڈھونڈو اور اس کے نتیجہ میں پھر وہ ایسی محبت تم سے کرے گا کہ تمہارا وجود اور خدا کا وجود ایک ہو جائیں گے۔یہ وہ خدا سے لے کر بندوں تک مومنوں تک ایک توحید پیدا ہوتی ہے جس کے بعد ناممکن ہے کہ اس توحید خالص پر کوئی دوسری چیز غالب آجائے۔یہ مضمون ہے جو بیان فرمایا گیا۔فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَلِبُونَ پہلے ان کو اکٹھا کیا گیا پھر حِزْبَ اللهِ کہ دیا ان کو ، یہ اللہ والے لوگ ہیں، یہ اللہ کا گروہ ہے۔اس میں اللہ بھی شامل ہے، رسول بھی شامل ہے مومن بھی شامل ہیں ، سب مل کر ایک حِزْبَ اللہ بن جاتے ہیں، فرمایا انہوں نے تو غالب آنا ہی آنا ہے کون ہے۔جو ان کو شکست دے سکے۔پس جب قیام نماز کی طرف میں توجہ دلا تا ہوں تو یہ مراد نہیں ہے کہ صرف فرائض پر آپ راضی ہو جائیں۔فرائض پر راضی ہونا ویسے بھی نقصان کا سودا ہے کیونکہ فرائض کی نوافل حفاظت کرتے ہیں۔یعنی دوسرا اعلیٰ مقصد تو اپنی ذات میں ہے ہی بہت حسین مقصد علاوہ ازیں بھی اگر فرائض ہی ہوں صرف تو جب بھی کوئی حملہ ہو جب بھی کوئی کمزوری واقع ہو تو فرائض پر اثر پڑتا ہے وہ جھڑنے لگتے ہیں۔جو صرف فرض پڑھنے والے لوگ ہیں ان پر بھی بیماریاں آتی ہیں، ان پر بھی تھکا وٹیں آتی ہیں ان پر بھی کئی قسم کے عوارض آتے ہیں جس کے نتیجہ میں چونکہ ان کے پاس صرف فرض ہی ہوتے ہیں جب وہ کمی کریں گے فرائض میں کریں گے جن کے فرائض لیٹے ہوئے ہیں نوافل میں فرائض پر حملہ ہونے سے پہلے نوافل اپنی قربانی بخشتے ہیں قربانیاں دیتے ہیں اپنی اور آگے کھڑے ہو جاتے ہیں فرائض کے۔چنانچہ بہت ہی شدید کوئی مصیبت اور مشکل اور الجھن پیش آجائے تو الگ مسئلہ ہے ورنہ نوافل پڑھنے والوں کے فرائض ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں اس لئے بھی اور اس لئے بھی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ جسم تو آپ کو عطا ہو جائے گا فرائض کے نتیجہ میں وہ حسن بھی تو چاہئے