خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 923
خطبات طاہر جلد چہارم 923 خطبه جمعه ۲۲ نومبر ۱۹۸۵ء ذکر ہے جب کہ وہ خود مومنوں کی جماعت میں شامل بھی ہیں۔جن کو مخاطب کیا جارہا ہے اور ان کی ولایت کی پھر تفصیل بھی بیان فرمائی گئی کہ وہ لوگ ہیں جو نماز کو قائم کرتے ہیں ، جوز کو ۃ کو دیتے ہیں اور تو حید خالص کو قائم کرنے والے ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ تو حید خالص کا قیام جس رنگ میں مومنوں کی جماعت کے ذریعے ہوتا ہے یہ اسی کا ایک دوسرا نقشہ ہے۔یعنی بعض صفات باری تعالیٰ اور صفاتِ رسالت اور صفاتِ ایمان ایک ہو جاتی ہیں اور ایک ہی روح نظر آتی ہے خدا سے لے کے بندے تک اور صفاتی لحاظ سے ایک عظیم الشان توحید کا قیام ہوتا ہے اس لئے وہ لوگ مخاطب بھی ہیں اور ساتھ ان کی جو مخاطب ہیں وہ خود اپنے مددگار بتائے گئے ہیں یعنی اس لحاظ سے ایک اور معنے بھی اس میں بن جاتے ہیں کہ مومنوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ تم غیر اللہ کی طرف نہ دیکھنا غیر مومن کی طرف بھی نہ دیکھنا کیونکہ تمہارا ایسا ایمان ہے اور تمہارا ایسا عقیدہ ہے اور تمہارے ایسے اعمال ہیں کہ باقی دنیا کی سوسائٹیوں سے تم کٹ چکے ہواور مشکل کے وقت کوئی اور تمہارے کام نہیں آئے گا۔جب بھی ابتلاء پیش آئیں گے، جب بھی مدد کی ضرورت آئے گی اس وقت مومنوں ہی کی جماعت ہوگی۔جو مومنوں کی جماعت کی مددگار ہوگی۔غیر مومن تمہاری مدد کے لئے نہیں آئے گا۔تو یہ بھی توحید کا ہی مضمون ہے یعنی غیر اللہ کا جو شرک ہے، غیر اللہ پر جو توقع ہے کہ وہ مدد کرے گا اس کی کلیتہ نفی فرما دی گئی ہے۔ایسا کامل اتحاد ہے اس مضمون میں کہ حیرت ہوتی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عقدے کو ہمارے لئے نہایت ہی حسین رنگ میں حل فرما دیا کہ خدا اور رسول اور بندوں کا مومنوں کا اکٹھا ذکر کرنے کی اور ان کی ولا بیت کا ذکر کرنے کی کیا ضرورت تھی اور یہ بھی بتا دیا کہ یہ ولایت کیا ہوتی ہے؟ اور اس ولایت کے نتیجہ میں کیسے مومن کا دفاع ہوتا ہے؟ کیسے حاصل کی جاسکتی ہے؟ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ کی ایک حدیث ہے بخاری میں۔حضرت ابو ہریرہ یہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس نے میرے دوست سے دشمنی کی میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں، میرا بندہ جتنا میرا قرب اس چیز سے حاصل کرتا ہے جو میں نے اس پر فرض کر دی ہے اس سے سوا کسی اور چیز سے وہ میرا اتنا قرب حاصل نہیں کر سکتا اور نوافل کے ذریعہ سے میرا بندہ میرے قریب ہو جاتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں اور جب میں اس کو اپنا دوست