خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 919
خطبات طاہر جلد ۴ 919 خطبه جمعه ۱۵/ نومبر ۱۹۸۵ء ایک جنازہ ہے مکرمہ امتہ الرحیم صاحبہ اہلیہ مکرم غلام مصطفیٰ کا ہلوں ریٹائر ڈ ٹیکسیشن آفیسر فیصل آباد کا یہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے مرحومہ نیک مخلص خاتون تھیں اور موصیبہ تھیں۔ایک جنازہ مکرم کیپٹن شیر محمد صاحب کا ہے جو ماڈل ٹاؤن لاہور میں اپنے نیک مزاج اور نیک اخلاق کی وجہ سے بڑے ہر دلعزیز تھے۔بہت مخلص انسان تھے۔ان کی ابھی اطلاع ملی ہے کہ ان کی وفات ہوگئی ہے۔ان کا بھی جنازہ ہوگا۔ایک جنازہ ہے ان کی وفات تو پہلے کی ہوئی ہوئی ہے لیکن ان کے بچے کا مجھے اب خط ملا ہے۔رانا نذیر احمد صاحب یہاں جلسہ پر تشریف لائے تھے پھر آگے امریکہ اپنے بیٹے کے پاس چلے گئے اور وہیں ان کی وفات ہو گئی تو ان کے بیٹے کا خط آیا ہے کہ چونکہ دیار غیر میں وفات ہوئی ہے اس لئے میری خواہش ہے کہ ان کی بھی نماز جنازہ غائب پڑھائی جائے۔یہ بھی بہت مخلص آدمی تھے۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی غریق رحمت فرمائے۔ایک دعا کا اعلان کرنا ہے۔کہ سکھر میں آپ کو علم ہے کہ ہمارے کئی مظلوم بھائی جو کل بیڈ بے قصور ہیں ایک جھوٹے ،سراسر جھوٹے بہتان کے نتیجہ میں بڑی دیر سے جیل میں صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں اور یہ بدقسمتی کا عجیب دور ہے کہ کسی زمانہ میں اگر چہ وہ معاملات فوج کی عدالت میں پہنچائے جاتے تھے جہاں انسان کو یہ فکر ہو کہ اگر دوسری عدالت میں گیا تو انصاف نہیں ہوگا فوج سے انصاف مل جائے گا اب الٹا دور چلا ہوا ہے کہ جہاں ظلم کرنا ہو پیچھے پڑ کر ان مقدمات کو فوج تک پہنچایا جاتا ہے۔وہ سمجھتے ہیں سول عدالت سے اس طرح ظلم نہیں ہو سکے گا اس لئے فوج کی عدالت میں پہنچایا جائے۔یہ تو رحجان ہے مگر خدا کرے بدظنی ہو اور اگر اس میں بیچ بھی ہے تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس معاملہ میں ظلم کی توفیق نہ عطا فرمائے کیونکہ یہ معاملہ بہت ہی درد ناک ہے۔اگر چہ ساہیوال کیس میں بھی جو ہمارے مظلوم ہیں ان کے متعلق بھی بار بار میں اعلان کرتا رہا ہوں ان کی بھی بڑی دردناک حالت ہے لیکن یہاں تو یہ کیفیت ہے کہ دو ایسے ہمارے معصوم بھائی بھی ملوث ہیں جن کے والد کو وہیں سکھر میں ان کے قید ہونے سے کچھ عرصہ پہلے شہید کیا گیا تھا۔اور والد کو اس طرح ختم کیا گیا اور اب جھوٹا مقدمہ بنا کر کہ ایک بم چلانے میں ملوث ہے۔ان کو اس طرح ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔یعنی سنگینی اور سفا کی کی کوئی انتہاء ہونی چاہئے ، یہاں تو