خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 917
خطبات طاہر جلد ۴ 917 خطبه جمعه ۱۵/ نومبر ۱۹۸۵ء جولوگ اصلاح کی کوشش کرتے ہیں۔ان کے ذہن میں کہیں دور کا بھی یہ خیال نہیں آتا کہ ہم نے یہ بات کر دی ہے ہماری کوششوں سے یہ عظیم الشان تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں ان کو یہی دکھائی دیتا ہے يُصْلِحُ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ کہ اللہ ہی ہے جو اصلاح کر رہا ہے اور چونکہ ان کی انکساری اس مقام پر پہنچی ہوتی ہے اس لئے امر واقعہ بھی یہی ہے کہ خدا تعالیٰ براہ راست اس بات کا ضامن ہو جاتا ہے کہ ان کے ہر فعل میں برکت پڑے۔ان کی ہر نصیحت نیک اثر دکھائے اور پھر خدا تعالیٰ خود معاشرہ کی اصلاح کا بیڑہ خود اٹھا لیتا ہے۔چنانچہ اس چھوٹی سی آیت میں اس عظیم الشان مضمون کو کس شان کے ساتھ بیان فرما دیا۔فرمایا قول سدید تم کرو۔اے متقیو! قول سدید کا ہتھیار تم اٹھالو اور پھل دینے کا وعدہ ہم کرتے ہیں تُصْلِحُ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ لیکن يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ کے نتیجہ میں ایک حصہ پھر بھی باقی رہ جاتا ہے یعنی گزشتہ بدیاں اور کمزوریوں کا نقصان تو بہر حال پھر بھی ملنا چاہئے اور انسان کے بس میں یہ تو ہوسکتا ہے اگر وہ کوشش کرے کہ میں کچھ اصلاح کرلوں لیکن گزشتہ کمزوریوں کے بدنتائج سے وہ قوم کو بچا نہیں سکتا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو آگے بڑھایا فرمایا کہ میں صرف تمہاری نیکی کے نتیجہ میں، تمہارے صاف قول کے نتیجہ میں، تمہارے تقویٰ کے نتیجہ میں صرف اصلاح کا وعدہ نہیں کرتا بلکہ میں احسان کا سلوک کروں گا صرف عدل کا سلوک نہیں کروں گا وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ خدا تعالیٰ تمہارے گزشتہ گناہ بھی بخش دے گا۔تمہاری گزشتہ کمزوریوں کو بھی دور فرمادے گا اور پھر آگے یہ خوشخبری بھی دی وَ مَنْ يُطع اللهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا اور اگر تم اسی طرح خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے چلے جاؤ گے تو اتنی عظیم الشان ترقیات، اتنی عظیم الشان کامیابیاں تمہارے مقدر میں ہیں کہ ان کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے۔تمہاری نظریں ان کا اندازہ کرنے سے کوتاہ ہیں، وہ کامیابیاں عظیم ہیں۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ جماعت ان ساری معاشرتی خرابیوں کی طرف توجہ کرے گی اور جس طرح کہ میں نے بیان کیا ہے تقویٰ کے ساتھ اللہ کو راضی کرنے کی خاطر اور کسی پر احسان نہ رکھتے ہوئے نہ افراد پر نہ جماعت پر محض اپنی ذات پر احسان کرتے ہوئے خدا کی خوشنودی کی خاطر یہ کام