خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 916 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 916

خطبات طاہر جلد ۴ 916 خطبه جمعه ۱۵ نومبر ۱۹۸۵ء جب تک اس کا تقویٰ سے پیوند نہ ہو۔یہ وہ ہتھیار ہے جب تقویٰ کے ہاتھوں میں آتا ہے پھر یہ برائیوں کی جڑیں کا تھا ہے اور حسن کو ابھارتا ہے اور اگر یہ تقویٰ کے ہاتھ میں نہ ہو تو پھر برائیوں کے اضافہ کا بھی موجب بن جایا کرتا ہے۔وہاں قول سدید کا یہ مطلب ہو جاتا ہے کہ تم اپنے کام سے کام رکھو میں اپنے کام سے کام رکھوں یہ برائی مجھے اچھی لگتی ہے میرا حق ہے میں اختیار کروں گا۔یعنی قول سدید رفتہ رفتہ بے حیائی کے لئے استعمال ہونا شروع ہو جاتا ہے۔وہ کہتے ہیں ٹھیک ہے سارے کرتے ہیں میں بھی کروں گا کوئی بات نہیں۔قول سدید شیطانی ہاتھوں میں ایسی عجیب عجیب شکلیں اختیار کر لیتا ہے کہ حیرت انگیز طور پر یہ حسین ہتھیار برے نتائج پیدا کرنے لگ جاتا ہے۔جیسے کھیتوں کی تلائی کی جاتی ہے ایک اچھا زمیندار اسی ہتھیار سے اچھی ملائی کر دیتا ہے جڑی بوٹیوں کو اکھاڑ کر باہر پھینک دیتا ہے اور ایک ناواقف نہ صرف یہ کہ پودے کو جن کی حفاظت کرنا مقصود ہے ان کو کاٹتا ہے اور گندی جڑی بوٹیاں اسی طرح رہ جاتی ہیں بلکہ بعض دفعہ اپنے پاؤں بھی کاٹ لیتا ہے۔خدا تعالیٰ نے قول سدید کا تقویٰ سے پیوند رکھا ہے اور اسی شرط کے ساتھ اس کو ذریعہ اصلاح بنایا ہے فرمایا اَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا اے وہ لوگو! جو تقویٰ اختیار کرتے ہو ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ اگر قول سدید کا ہتھیار اپنے ہاتھ میں پکڑ لو گے تو عظیم الشان نتائج پیدا ہوں گے۔يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ خدا تعالیٰ اس کے نتیجہ میں تمہارے اعمال کی اصلاح کرے گا۔وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ اور چونکہ تقویٰ کا مضمون یہ بتاتا ہے کہ ہر بات جو سیدھی کی جاتی ہے وہ اللہ کی خاطر کی جاتی ہے اسی لئے میں نے شروع میں ہی آغاز ہی اپنے خطبہ کا اسی بات سے کیا تھا کہ نیتوں میں قول سدید رکھیں اور ساری نیتیں خدا کی طرف لے جائیں۔سیدھا نیتوں کا پیوند خدا کے حضور خدا کے قدموں سے ہو۔یہی مضمون ہے جو قرآن کریم بیان فرما رہا ہے کہ اے وہ لوگو! جو تقویٰ رکھتے ہو جن کی ہر بات خدا کی خاطر ہوتی ہے۔جن کی ہر بات اس خوف سے ہوتی ہے کہ خدا ناراض نہ ہو جائے تم اگر قول سدید اختیار کرو گے تو تم دیکھو گے کہ معاشرہ میں عظیم الشان نتائج پیدا ہو رہے ہیں لیکن وہ تم نہیں کر رہے ہو گے، يُصْلِحُ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ خدا تمہارے اعمال کی اصلاح کر رہا ہوگا۔اس میں خدا تعالیٰ نے ایک اور نکتہ بھی ہم پر کھول دیا کہ خدا کے نام پر تقویٰ اختیار کر کے