خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 909 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 909

خطبات طاہر جلد ۴ 909 خطبه جمعه ۱۵/ نومبر ۱۹۸۵ء اس کے کہ فحشاء کریں۔اس موقع پر ایک ستاری کی صفت ہے اسے بھی تو اپنایا کریں بجائے اس کے کہ کسی کی بدی کھول کھول کر لوگوں میں بیان کرنا شروع کریں۔ستاری کا معنی یہ ہے کہ لوگوں سے چھپائیں اور اس سے بھی علیحدگی میں بات کریں اور درد دل کے ساتھ بات کریں اور بار بار کریں۔وہ ناراض بھی ہو تو ہمدردی سے کہیں کہ دیکھیں ہمارا تو کام ہے، ہمیں تو خدا نے اس کام پر مقرر فرمایا ہے ہم تو آپ کو کہیں گے۔لوگوں کے گھروں میں اس نیت سے جائیں گے ایک جاتا ہے ، دوسرا جاتا ہے، ایک خاتون آتی ہے تو کوئی دوسری چلی جاتی ہے۔اور بار بار آ کر کسی بی بی کو سمجھا رہی ہیں کہ بی بی آپ نے یہ فعل کیا ہے مزہ نہیں آیا یہ اچھی بات نہیں ہے آپ دیکھ نہیں رہیں کہ احمدیت پر کیا حالات ہیں لوگ انگلیاں اٹھائیں گے اور کچھ نہیں تو شماتت اعدآء کی خاطر ہی اس سے بچنے کی خاطر ہی آپ کچھ اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں۔اس نیت سے اگر آپ چھپیں گی تو وہ کوئی منافقت تو نہیں وہ تو ایک نیک ارادہ کی خاطر اپنی بدی پر پردہ ڈھانپنے والی بات ہے۔اور کچھ نہیں تو یہی سہی۔یہ نصیحت براہ راست اس کو دور کرنے کی نصیحت ، قرآن کریم کی کوئی آیت تلاش کر کے اس کا ترجمہ بتانے کی ضرورت ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کوئی عبارت لے کر اس سے مرصع ہو کر نکلے اور وہ جا کر اس کے سامنے پیش کرے، نصیحت کے کئی طریقے ہیں بڑے اچھے اچھے اور پیارے پیارے۔ان سب کو آپ اختیار کریں تو پھر رپورٹوں کی ضرورت نہیں باقی رہتی۔لیکن پھر اگر رپورٹ کرنی ہے تو پھر طریق کار کے مطابق رپورٹ کریں۔جس جماعت کے عہدیدار سے اس کا تعلق ہے اس کے پاس پہنچیں اسے بتائیں کہ ہم یہ یہ کوششیں کر چکے ہیں، اب ہمارے بس کی بات نظر نہیں آتی ، آپ کوشش کریں کہ کوئی قدم اٹھایا جائے اس کی بجائے اچانک پہلے تو لوگ معاشرہ کو خود گندہ کرتے ہیں اور پھر اچانک یہ توقع رکھتے ہیں کہ فورا اس شخص کو کاٹ کر جماعت سے باہر پھینک دیا جائے۔یعنی یہ ہمدردی ہے اور تمہارے تقویٰ کا یہ رخ ہے کہ جب تک عضو بیمار تھا اس کو صحت مند کرنے کی طرف تو توجہ کوئی نہیں کی اور جب کاٹنے کا وقت آیا ہے تو بڑی دلیری کے ساتھ جس طرح بڑا آسان کام ہے جماعت سے کاٹ کر الگ کرنا اس طرح تم اس کو کاٹ کر الگ پھینکنا چاہتے ہو۔کوئی سچی ہمدردی نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو فرماتے ہیں کہ مومن کا حال تو ایک بدن کا حال ہے ایک انگلی کو بھی تکلیف ہو تو سارا بدن بے چین