خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 906
خطبات طاہر جلد ۴ 906 خطبه جمعه ۱۵/ نومبر ۱۹۸۵ء معاشرہ اور برائیوں سے بھرنے لگتا ہے۔طعن و تشنیع ، مقابلے، ایک دوسرے سے عناد، یہ خیال کہ اس شخص نے میرے متعلق یہ بات کہی ہے اور بھی کی ہوگی گویا مجھے معاشرہ میں بدنام کرتا ہے۔میں اس کے اندر کیڑے نکالوں، میں اس کی برائیاں لوگوں کو بتاؤں۔تو یہ عجیب نصیحت ہے کہ جو معاشرہ کو برائیوں سے پاک کرنے کی بجائے مزید برائیاں بھرتی چلی جاتی ہیں۔اس لئے نصیحت کرنے والے پر جہاں ضروری ہے کہ وہ بھی قول سدید سے کام لے وہاں نصیحت سننے والے کا بھی یہ کام ہے کہ غور کرے کہ آخر یہ شخص کیوں مجھے کہ رہا ہے۔اگر وہ یقین بھی رکھتا ہو کہ بدنیت سے کہہ رہا ہے تو بات پر غور کرے کہ بات سچی ہے یا نہیں بچی۔اگر بات سچی ہے تو بدنیت کا کہنا ہو یا اچھی نیت کا کہنا ہو اس کے فائدے میں ہے اس لئے اچھی بات کو قبول کرنا چاہئے۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں: الحكمة ضالة المومن (سنن ترندى كتاب العلم حدیث نمبر ۲۶۱۱) حکمت کی بات تو مومن کی گم شدہ اونٹنی کی طرح ہے۔وہ جہاں سے بھی ملے گی اسے قبول کرنا ہوگا اور قبول کیا جاتا ہے۔یہ تو کوئی نہیں کہتا کہ کسید شمن کی طرف سے مجھے اونٹنی ملی ہے، میری اونٹنی تھی مگر دشمن نے دی ہے اس لئے میں نہیں لوں گا۔تو نصیحت کی بات بھی حکمت کی بات ہوتی ہے اور اسے مومن کو اپنی سمجھ کر قبول کرنا چاہئے۔یہ بیماری بد قسمتی سے عموماً مستورات میں زیادہ پائی جاتی ہے اور لجنہ کی رپورٹوں میں اس قسم کی شکایات نسبتاً زیادہ ملتی ہیں اور دونوں طرف یہ بڑی نمایاں طور پر بیماری دکھائی دیتی ہے کہ نصیحت کرنے والیاں بھی عموماً کچھ نہ کچھ ایچ بیچ رکھ لیتی ہیں اور جن کو نصیحت کی جاتی ہے وہ بھی پھر آگے سے ویسے ہی رد عمل دکھاتی ہیں۔مثلاً پردے کے سلسلہ میں رپورٹیں ملتی ہیں اور بعض اطلاعیں تکلیف دیتی ہیں کہ بعض خاندانوں میں جہاں پہلے پر دہ شروع کیا گیا تھا اب وہ سمجھتے ہیں کہ اب دیکھ بھال کی نظر دور ہوگئی ہے اس لئے بے شک اب بے پرواہ ہو جائیں اور بعض بچیاں پردوں میں واپس آکر پھر باہر نکلنی شروع ہو گئی ہیں۔ان کے متعلق جو اطلاعیں ملتی ہیں اس سے میں سمجھتا ہوں کہ نصیحت کرنے والیوں کا بھی قصور ہے۔قول سدید سے ہٹنے کا ایک یہ بھی منظر وہاں نظر آتا ہے کہ قول سدید تو اس کی طرف رخ رکھنا چاہئے جس تک بات پہنچانی ہو مگر عورتیں قول سدید چھوڑ کر وہاں بات پہنچاتی ہیں جہاں پہنچانے کا تعلق ہی کوئی نہیں۔یعنی قول سدید کا یہ معنی ہے کہ تمہارا نشانہ سیدھا ہو۔جس سے تعلق