خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 902
خطبات طاہر جلد ۴ 902 خطبه جمعه ۱۵/ نومبر ۱۹۸۵ء کہ ان کو بتا دو لا تَمُنُّوا عَلَى إِسْلَامَكُمْ اگر تمہارا اسلام ہے تو تمہاری خاطر ہے۔اگر خدا کی خاطر تم یہ کام کرتے ہو تو میری ذات پر تمہارا کوئی احسان نہیں ہے۔اس لئے اپنی نیکیوں کا اجر خدا سے مانگو اور اسی پر تمہارا حق بنتا ہے۔مجھے یا میرے غلاموں کو کیا آکر بتاتے ہو کہ ہم نے یہ کیا اور ہم نے وہ کیا۔پس یہ اسی بنیادی کمزوری کی بگڑی ہوئی صورت ہے۔ایک آدمی جب خدا کے نام پر یہ عہد لے کر گھر سے نکلتا ہے کہ میں رضائے باری تعالیٰ کی خاطر جماعت کی خدمت کے لئے نکلا ہوں اور اپنے لئے نہیں بلکہ خدا کے نام پر ایک نیک کام کے لئے اپنی جھولی پھیلا رہا ہوں۔تو اس کو پھر ان سب باتوں کے لئے تیار رہنا چاہئے۔اس کی دل شکنیاں بھی ہوں گی لیکن ہر دل شکنی اگر وہ خدا کی خاطر صبر سے قبول کرے اس کا درجہ بڑھانے والی ہوگی۔ہر دفعہ جب وہ کسی در سے لوٹا یا جائے گا تو ایک ایک قدم پر خدا اسے اتنے ثواب عطا فرمائے گا کہ بعض لوگوں کی عمر بھر کی نیکیاں بھی اس طرح ثواب حاصل نہیں کر سکتیں مگر یہ کہ نیتیں صاف ہوں اور بات سیدھی ہو۔جب بھی کوئی انسان خدا کی خاطر نکلتا ہے تو قول سدید یہ ہے کہ اس کا کسی پر احسان نہیں ہے۔نہ جماعت پر کوئی احسان ہے نہ اس شخص پر کوئی احسان ہے جس سے وہ کوئی نیک توقع رکھ کر گھر سے نکلا ہے جسے کوئی نیک بات کہنے کے لئے گھر سے نکلا ہے۔جب یہ رخ انسان اختیار کرلے اور اپنے نفس کا پوری طرح تجزیہ کر کے اپنی نیتوں کو صاف کر کے گھر سے نکلے تو اس کے منہ سے کوئی کڑوی بات نکل ہی نہیں سکتی۔جب بھی اس کی مخالفت ہوگی خدا کے نام پر اس کے دل میں ایک عجیب سرور کی کیفیت پیدا ہوگی ایک ایسی روحانی لذت پیدا ہوگی کہ باہر کی دنیا کا انسان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔وہ سوچ رہا ہو گا کہ اس بیچارے کو کیا پتہ کہ میرے اور میرے خدا کے درمیان اس وقت کیا راز و نیاز ہورہے ہیں۔اس بیچارے کو کیا پتہ کہ اس کا ہر دھتکارنا مجھے اپنا سب سے زیادہ پیارے آقا کے نزدیک معزز کرتا چلا جارہا ہے۔وہ جو کائنات کا مالک ہے مجھے اس کے قریب کر رہا ہے تو کون سا نقصان کا یہ سودا ہوا ہے۔اللہ ہی کے ہاتھ میں عزتیں ہیں، اللہ ہی کے ہاتھ میں ذلتیں ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ خدا کے نام پر نکلے ہوئے انسان کو جب کوئی ذلیل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو عزت بخشتا ہے، اسے زیادہ محبت اور پیار کی نظر سے دیکھتا ہے، پھر اس کا کیا حق ہے کہ دوسرے پر