خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 893
خطبات طاہر جلدم 893 خطبه جمعه ۱۸ نومبر ۱۹۸۵ء گے اور بے فکر ہو جائیں گے کہ ان کونماز آنی شروع ہو گئی ہے۔یہ درست نہیں۔عبادت کا تعلق محبت سے ہے اور محض رسمی طور پر ترجمہ سکھانے کے نتیجہ میں عبادت آئے گی کسی کو نہیں۔وہ ماں باپ جن کا دل عبادت میں ہو جن کو نماز سے پیار ہو جب وہ ترجمہ سکھاتے ہیں بچے سے ذاتی تعلق رکھتے ہوئے بچہ اپنے ماں باپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھ رہا ہوتا ہے، ان کے دل کی گرمی کو محسوس کر رہا ہوتا ہے، ان کے جذبات سے اس کے اندر بھی ایک ہیجان پیدا ہو رہا ہوتا ہے۔وہ اگر نماز سکھائیں تو ان کا نماز سکھانے کا انداز اور ہوگا۔چنانچہ بہت سے قادیان کے زمانے میں مجھے یاد ہے بہت سے نیک لوگ اس طرح ماؤں کی گود میں نیک بنے۔ان کو ماؤں نے بڑے پیار اور محبت سے نمازیں سکھائی ہیں اور ہمیشہ کے لئے ان کی یادیں ان کے دلوں میں ڈوب گئی ہیں اور جم گئی ہیں وہاں ان کے خون میں بہنے لگی ہیں، ایک فطرت ثانیہ بن چکی ہیں۔کجا وہ نمازیں جو اس طرح سیکھی گئی ہوں کجا و جو ویڈیو پر آرام سے بیٹھے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور خیال شاید یہ آرہا تھا کہ یہ ختم ہو اور ہم اپنی دلچسپی کا فلاں پر وگرام دیکھیں ، فلاں ڈرامہ شروع کر دیں، فلاں کھیل دیکھنے لگ جائیں ، دونوں چیزوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔اس لئے محض فرضی باتوں کے اوپر اپنے آپ کو خوش نہ کریں۔ہر احمدی کو خود نماز کے معاملے میں کام کرنا پڑے گا، محنت کرنی پڑے گی ، اپنے نفس کو شامل کرنا پڑے گا، اپنے سارے وجود کو اس میں داخل کرنا پڑے گا تب وہ نسلیں پیدا ہوں گی جو نمازی نسلیں ہوں گی خدا کی نظر میں۔پس آئندہ نسلوں کے اعتبار سے دیکھیں تو تب بھی جیسا کہ میں نے آیت کریمہ آپ کے سامنے پڑھ کر سنائی تھی۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ بر جان کو خدا متنبہ کر رہا ہے تم نے کل کے لئے کیا تیاری کی ہے۔حدیث نبوی کا مضمون اسی آیت سے تعلق رکھتا ہے۔قیامت کی پوچھ رہے ہو، لیکن اس کے لئے تیاری کیا کی ہے اپنے نفس کو تیار پاتے بھی ہو؟ پس آج بھی یہی ہے سوال جو سب سے اہم سوال ہے کہ تم نے آنے والے کل کے لئے کیا تیاری کی ہے، کن اولا دوں کو آگے بھیجو گے اور کیا وہ خدا کی عبادت گزار نسلیں ہوں گی یا عبادت سے غافل نسلیں ہوں گی ، نئے آنے والے مہمانوں کے لئے تم نے کیا تیاری کی ہے؟ جو جوق در جوق احمدیت میں داخل ہوں گے۔اگر بے نمازی ماحول میں داخل ہوں گے تو وہ بھی بے نمازی بن جائیں