خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 894
خطبات طاہر جلدم 894 خطبه جمعه ۸/نومبر ۱۹۸۵ء گے۔اگر ایسے نمازیوں میں داخل ہوں گے جو کھو کھلی نمازیں پڑھنے والے ہیں اور ریا کار ہیں تو وہ بھی کھوکھلی نمازیں پڑھیں گے اور ریا کار بن جائیں گے۔اس لئے خــاشــعــون جو نمازی ہیں وہ نمازی پیدا کرنے ضروری ہیں اور اگر خاشعون نہیں بنیں گے آپ تو پھر نماز میں آپ پر ہمیشہ بھاری رہیں گی اور وہ بوجھ نہیں اٹھا سکیں گے۔آج نہیں تو کل وہ بوجھ گر جائے گا۔آپ نہیں تو آپ کی اگلی نسل اس بوجھ کو پھینک دے گی۔پس اس لئے ضروری ہے کہ نماز کو گہرا کیا جائے اس میں خشوع پیدا کیا جائے لیکن بہر حال جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ تو ابھی بہت بعد کی منازل ہیں۔پہلی منزل بھی ہے ایک لحاظ سے کہ جب خشوع کے حالات پیدا ہو جا ئیں تو پھر نمازیں آسان ہونے لگ جاتی ہیں اور بعد کی منزل اس لحاظ سے ہے کہ اپنے بچوں کی آپ نے جب تربیت کرنی ہے تو ان کو خشوع کے مقام تک پہنچانے کے لئے آپ کو بہت محنت کرنی پڑے گی اور ذاتی تعلق رکھنا پڑے گا، ذاتی قابلیتوں کو استعمال کرنا پڑے گا ، ذاتی تعلقات کو استعمال کرنا پڑے گا تب جا کر آئندہ آنے والی نسلیں آپ کی سچی نمازی بن سکیں گی۔پھر افریقہ میں یا دوسرے ممالک میں جہاں آج بھی بکثرت جوق در جوق لوگ اسلام میں داخل ہورہے ہیں وہاں بہت سے مربی بنانے پڑیں گے۔جن کی پہلے تربیت ہے ان کو آپ استعمال کریں اپنی مدد کے لئے اس کام کے لئے تیار کریں اور افریقہ کے مزاج کی سادگی جو ہے اس کے اندر ایک خاص حسن پایا جاتا ہے بہت سی دوسری قومیں اس حسن سے عاری ہو چکی ہیں۔آج کل کی مصنوعی زندگی کے نتیجہ میں لیکن افریقہ کی سادگی میں وہ حسن ہے وہ جو بات مانتے ہیں جب تو پھر پوری اطاعت کے ساتھ فرمانبرداری کے ساتھ مانتے ہیں، پوری طرح تعاون بھی کرتے ہیں۔بہت ہی پیاری سادگی ہے اس قوم میں۔اس سے مبلغ استفادہ کریں اور ان کو سمجھا ئیں اور سکھائیں وہ بڑے پُر جوش معلم بنتے ہیں آگے۔افریقن مزاج میں ایک یہ بھی خوبی ہے کہ پھر وہ اچھی بات کو وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (العصر ب۴) کے ساتھ ادا کرتا ہے، چپ نہیں ہوتا پھر۔جب اس کو ایک اچھی بات سکھا دیں تو وہ کہتا چلا جاتا ہے اس لئے وہاں خدا تعالیٰ نے آپ کو جہاں بعض کمزوریاں پائی جاتی ہیں وہاں بعض قوتیں بھی تو پائی جاتی ہیں خدا تعالیٰ آپ کو ان قوتوں کی طرف متوجہ فرماتا ہے ان سے فائدہ اٹھاؤ۔کوئی جگہ بھی ایسی نہیں ہے جہاں کمزوریوں کے مقابل پر خدا تعالیٰ