خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 878 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 878

خطبات طاہر جلد۴ 878 خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۸۵ء اور ہم سب کے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن کی محبت کے صدقے ہم سب کو خدا کی محبت نصیب ہوتی ہے آپ کو تیرہ سال مسلسل مکہ میں گالیاں دی گئیں ہیں ، اس وقت یہ سوال کیوں نہیں اٹھایا گیا کہ خدا کی غیرت کہاں گئی ہے۔ ایسا دردناک دور ہے کہ اس کا بیان کرنا مشکل ہے۔ گلیوں میں چلتے پھرتے آپ کو گالیاں دی جاتی تھیں، آپ کے پیچھے غنڈے لگا دیئے جاتے تھے ، ہمسائے ، ہمسایوں کی طرف سے گالیاں پڑتی تھیں گھر میں پتھر پھینکے جاتے تھے، گندگی پھینکی جاتی تھی اور آنحضرت نہایت خاموشی سے ان چیزوں کو برداشت فرمارہے تھے۔ صلى الله علوس P ایک موقع پر آپ کے گھر میں ایسی گندی غلاظت پھینکی گئی کہ اس کی بد بو سے سارا علاقہ متعفن ہو گیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود اٹھا کر اُس کو باہر پھینکنے کے لئے آئے اور صرف اتنا فرمایا کہ یہ ہمسائیگی کا حق تم لوگ ادا کر رہے ہو اس کے سوا کوئی لفظ نہیں کہا۔ ایک موقع پر آنحضرت گزر رہے تھے تو آپ کے سر پر کسی بد بخت نے گھر کا کوڑا کرکٹ پھینک دیا۔ ایک لفظ بھی آپ نے زبان سے نہیں نکالا ، کوئی شکوہ نہیں کیا ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے متعلق آتا ہے کہ آپ نے یہ دیکھا تو بے اختیار رونے لگیں سر دھوتی جاتی تھیں صاف کرتی تھیں اور روتی جاتی تھیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تسلی دی کہ فاطمہ رومت اللہ تعالیٰ اس زمانہ کو بدل دے گا یہ زمانہ اس طرح نہیں رہے گا۔ یہ وہ دور صبر اور تو کل ہے جو آپ جب تاریخ میں دیکھتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے آناً فاناً گزر گیا تیرہ سالہ مکی ، کیا فرق پڑتا ہے قوموں کی زندگی میں؟ اس کے بعد پھر جہاد کا دور ہے پھر فتح کا دور ہے اور فتح کے دور کا زمانہ بالکل ہی مختصر نظر آتا ہے بظاہر ۔ اور جب آپ گزرتے ہیں ان حالات میں سے تو پھر شکوے شروع ہو جاتے ہیں پھر سوال اٹھنے لگ جاتے ہیں کہ اے خدا ! تیری غیرت صلى الله کہاں گئی ؟ کیا محمد مصطفی ا سے بھی بڑھ کر خدا کسی کے لئے غیرت دکھائے گا ؟ حقیقت یہ ہے کہ تکلیف کا دور جب انسان اس میں سے گزر رہا ہوتا ہے تو لمبا دکھائی دیتا ہے اور جب مڑ کے اس کو دیکھتا ہے تو چھوٹا دکھائی دیتا ہے یہ چیز کوئی ایمانیات سے تعلق رکھنے والی بات نہیں ہے۔ ایک ایسا مضمون ہے جو روزمرہ ہماری زندگی میں ہمارے تجربے میں نظر آتا ہے واقعات میں ہماری ذات پر سے گزر جاتے ہیں اور ہر انسان کا رد عمل یہی ہے یہ انسانی فطرت ہے۔ تھوڑی سی تکلیف آپ کو سفر علوم