خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 875
خطبات طاہر جلد۴ 875 خطبه جمعه یکم نومبر ۱۹۸۵ء اور دوسرا پیغام کمزور دلوں کے لئے ہے کہ دیکھو میں اصول کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں کرتا۔سب سے زیادہ پیارا وجود جس کی خاطر کا ئنات کو پیدا کیا گیا اس سے بھی میں یہ توقع رکھتا ہوں کہ وہ میرے اصولی احکامات کی بڑی سختی سے پیروی کرے گا اور اگر اس معاملے میں میں رعایت نہیں کرتا تو تم جو پچھلے مقامات کے لوگ ہو جن کی حیثیت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابل پر کچھ بھی نہیں ، ان کو میں کیوں نہیں پکڑوں گا۔تو اس رنگ میں تنبیہ کے مضمون کو بھی عروج پر پہنچا دیا۔ایک طرف خوش خبریوں کے مضمون کو ثریا سے بالا کر دیا اور ایک طرف تنبیہ کے مضمون کو بھی انتہاء تک پہنچا دیا۔یہ قرآن کریم کا طرز کلام ہے اور اسی طرز کلام میں یہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو مخاطب فرمایا گیا ہے۔پہلی آیت میں وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ بِأَنَّ لَهُمْ مِنَ اللهِ فَضْلًا كَبِيرًا میں تو تسلی ہے کہ یہ رات ٹل جائے گی اور دکھ دور ہو جائیں گے تم فکر نہ کر وخدا کی طرف سے عظیم بشارتیں تمہارے لئے مقدر ہیں اور دوسری طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب فرما کر یہ کہنا کہ کافروں کی اطاعت نہ کرو ہرگز یہ مراد نہیں کہ نعوذ بالله من ذلک آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی دور کا بھی غیروں کی اطاعت کا امکان تھا اور اس بات کی نفی پہلی آیت ہی کر رہی ہے، مضمون کی ترتیب بتا رہی ہے کہ جس شخص سے یہ احتمال ہو کہ وہ غیر اللہ کی اطاعت کرے گا اس کو خوشخبریاں دینے کے لئے تو خدا کھڑا نہیں کر سکتا ، عظیم بشارتیں دینے کے لئے تو اس کو مقرر نہیں فرما سکتا۔تو پہلی آیت نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر جو احتمال پیدا ہوتا تھا الزام کا اس کی کلیپ نفی فرما دی اور آپ کے مقابل پرسپر بن کے کھڑی ہو گئی ہے اور بتا رہی ہے کہ یہ مضمون کمزوروں کے لئے ہے مخاطب حضور اقدس ہیں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مگر مراد وہی ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا ( بخاری کتاب احادیث الانبیاء حدیث نمبر ۳۲۱۶) حالانکہ جتنی خواتین تھیں اس وقت ان میں اگر کوئی ایک خاتون تھی جس کے لئے ہرگز کوئی امکان نہیں تھا چوری کا تو وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا تھیں خاتون جنت تھیں اور عظیم الشان آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کے متعلق کے مقامات بیان فرمائے۔تو آپ کو حضرت فاطمہ کو یہ کہنا کہ اگر فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کے ہاتھ کاٹ