خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 874
خطبات طاہر جلدم 874 خطبه جمعه یکم نومبر ۱۹۸۵ء شد ید ایذا رسانی ہو رہی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو خوشخبری دینے والا ہو اس کو مخاطب کر کے کیوں فرمایا کہ وَلَا تُطِعِ الْكَفِرِین کہ تو کافروں کی اطاعت مت کر۔خوش خبری پہلے رکھی گئی اور کافروں کی اطاعت کا مضمون بعد میں باندھا گیا۔پہلے فرمایا کہ اے محمد ! تو حو صلے دلا ، مومنوں کو تسلیاں دے، ان سے وعدے کر، ان کے دل بڑھا اور ان کو بتادے کہ خدا کی طرف سے عظیم الشان بشارتیں نازل ہونے والی ہیں فضل نازل ہونے والے ہیں اور دوسری طرف یہ فرمانا کہ تو کافروں اور منافقوں کے پیچھے مت چل اور ان کی ایذارسانی کو نظر انداز فرمادے اور اللہ پر توکل رکھ ان دونوں باتوں کا جوڑ کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جیسا کہ بارہا سلسلہ (احمدیہ) کی تفاسیر میں یہ امر وضاحت کے ساتھ موجود ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب مخاطب کیا جاتا ہے تو اس کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بذات خود مخاطب ہوتے ہیں اور وہ پہلو وہ ہے جہاں بڑے مراتب کا بیان ہوتا ہے بہت ہی عظیم الشان مراتب کا بیان ہوتا ہے تو حضور اقدس کو واحد میں مخاطب فرمایا جاتا ہے اور اس سے یہ پیغام مومنوں کو دینا مقصود ہوتا ہے کہ اتنے عظیم الشان نبی کے تم پیرو ہو، اتنے عظیم الشان مرشد اور آقا کا دامن تم نے پکڑ لیا ہے اس لئے تمہیں بھی اس کے مطابق جانچا جائے گا، اتنی بڑی بلندیاں تمہارے لئے کھلی ہیں اگر ایسے ہی اعمال کر کے دکھاؤ گے یا متابعت میں اپنی طرف سے پوری جد و جہد کرو گے تو تمہارے لئے عظیم الشان اور لا انتہا مراتب سامنے تمہیں کھڑے دعوت دے رہے ہیں۔پس تحریص کے طور پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سامنے رکھ کر مومنوں کو ان عظیم الشان مرتبوں کی خبر دی جاتی ہے جو اس عظیم الشان رسول کی پیروی سے نصیب ہو سکتے ہیں۔دوسری جگہ واحد کے صیغہ میں مخاطب فرماتے ہوئے بظاہر بڑی سخت تنبیہ کا مضمون ہے اور ایک سے زائد مرتبہ قرآن کریم میں یہ طریق موجود ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرمایا کہ ایک ذرہ بھی اگر اپنے موقف سے ہے تو نہ دین کے رہو گے نہ دنیا کے رہو گے اور خدا کی طرف سے شدید عذاب میں مبتلا کئے جاؤ گے۔اب یہ بات تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شایان شان نظر نہیں آتی مگر دراصل یہ پیغام کمزوروں کے لئے ہے۔پہلا پیغام مضبوط مومنوں کے لئے ہے کہ تم نے ایک بہت عظیم الشان رسول کا دامن پکڑ لیا ہے اب خدا کے فضل سے تم بڑی بڑی ترقیات کرو گے