خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 81 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 81

خطبات طاہر جلدم 81 خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۵ء خاندان سے انگریزوں کے سلوک سے متعلق درج ہے: پنجاب کے الحاق کے وقت اس خاندان کی تمام جا گیریں ضبط کر لی گئیں کچھ بھی باقی نہیں چھوڑ ا سوائے (چند گاؤں کے ) دو تین گاؤں پر مالکانہ حقوق تھے اور مرزا غلام مرتضی اور ان کے بھائیوں کے لئے سات سوروپے کی ایک پینشن مقرر کر دی گئی۔“ چیفس اینڈ فیمیلیز آف نوٹ ان دی پنجاب۔لاہور جلد ۲ صفحہ۸۵) اس میں درج نہیں لیکن وہ بھی بعد ازاں رفتہ رفتہ کم کر کے ختم کر دی گئی ) یہ تھا انگریز کا خود کاشتہ پودا اور اس کے ساتھ انگریزوں کے تعلقات۔سوائے اس مجبوری کے کہ سکھوں کی لڑائی کے دوران انہیں لازماً سکھوں کو کمزور کرنا تھا اور جو خاندان اپنے اپنے وطنوں سے نکلے ہوئے تھے ان کو واپس آباد کرنا تھا اس کے سوا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس خاندان پر انگریز کا کوئی احسان نہیں۔ہاں! یہ ضرور ہے کہ انہوں نے ستر گاؤں کی جائیداد چھین لی جس کے لئے اس خاندان کے بزرگ مقدمے لڑتے رہے اور جو کچھ رہا سہا تھا وہ بھی ضائع کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے والد صاحب کو مسلسل توجہ دلاتے رہے کہ آپ اس بات کو چھوڑ دیں اور خدا سے دل لگائیں اور اس حکومت سے کوئی توقع نہ رکھیں اور متنبہ کیا کہ آپ کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ بھی آپ ضائع کر دیں گے اس لئے مقدمات چھوڑ دیں لیکن آپ کے والد صاحب کو جائیداد ہاتھ سے نکل جانے کا ایسا غم تھا کہ انہوں نے آپ کی بات نہیں مانی اور نتیجہ یہ نکلا کہ بقیہ ساری جائیداد یا جو آمد پہلے سے اکٹھی کی ہوئی تھی وہ بھی انہوں نے ان مقدمات میں ہار دی لیکن انگریز نے ایک گاؤں بھی دوبارہ واگزار نہیں کیا۔اس کے برعکس وہ علماء جو احمدیوں پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے انہوں نے جو تعریفیں (جن کا میں نے ذکر کیا ہے ) کیں وہ بلاوجہ نہیں تھیں بلکہ ان تعریفوں کے نتیجہ میں انہیں جاگیریں ملی ہیں چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی کو انگریز کی خوشامد کے نتیجہ میں چار مربع زمین الاٹ ہوئی جبکہ خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک انچ بھی زمین نہ ملی اور نہ ہی جماعت پر انگریزوں نے کسی رنگ میں کوئی احسان کیا۔ساری دنیا میں کوئی انسان ایک کوڑی بھی ثابت نہیں