خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 80
خطبات طاہر جلدم 80 خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۵ء آپ جن کی بریت فرما رہے ہیں وہ اس خاندان کے لوگ ہیں جو نہ صرف یہ کہ احمدیت سے پہلے کا ہے بلکہ وہ سب خدمات بھی احمدیت کے آغاز سے بہت پہلے کی ہیں اور ان کا احمدیت سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا چنانچہ خود حکومت پاکستانی اسی مزعومہ وائٹ پیپر (White Paper) میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف ایک دلیل یہ بھی پیش کرتی ہے کہ آپ کے قریبی رشتے دار آپ کے شدید دشمن تھے۔پس وہ خاندان جس کو خود کاشتہ پودا کہا گیا ہے وہ آجکل کی اصطلاح میں اہل سنت (سنی ) تھے ورنہ اصل اہل سنت تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم ہی ہیں۔پس اس سے نتیجہ تو یہ نکلنا چاہئے تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کاستی خاندان جس سے آپ نے قطع تعلق کر لیا، جو احمدیت کی وجہ سے آپ کا مخالف ہو گیا وہ انگریز کا خود کاشتہ پودا تھا اگر وہ تھا تو ہوتا پھرے ہمیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔جماعت احمدیہ کا اس خاندان سے کیا تعلق ہے؟ جہاں تک اس خاندان کے ساتھ انگریزوں کے سلوک کا تعلق ہے وہ بھی سن لیجئے۔باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس خاندان کی خدمات بتا کر اور ان سرٹیفکیٹس کے نتیجہ میں جو انگریزی حکومت کی طرف سے جاری ہوئے اسے خود کاشتہ پودا قرار دیا لیکن خود کاشتہ پودا کیسے بنا، کیا احسان تھا ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس جگہ انگریز کے کسی احسان کا ذکر نہیں فرمایا۔صرف اس خاندان کی خدمات کا ذکر کیا گیا ہے۔وہ احسان کیا تھا ؟ سوائے اس کے کچھ نہیں تھا کہ اس سکھ حکومت سے ان کو نجات بخشی تھی جس نے اس خاندان پر متواتر حملے کر کے اسے کمزور کر دیا تھا اور بعض دفعہ شہر بدر بھی کیا چنانچہ یہ خاندان سکھوں کی وجہ سے سالہا سال تک بے وطن رہا اور پھر انگریزی حکومت کے زمانہ میں امن کی حالت میں یہ خاندان واپس آکر قادیان میں آباد ہوا۔پس یہ وہ احسان ہے جس کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کو خود کاشتہ پودا قرار دے رہے ہیں لیکن جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ نعوذ باللہ کوئی خدمات ایسی تھیں جن کے نتیجہ میں ان کو انعام ملنا چاہئے تھا۔اس کی کوئی حقیقت نہیں۔بہر حال انہوں نے جو انعام دیا ہے اس کا ذکر بھی سن لیجئے۔پنجاب چیفس یعنی پنجاب کے چیفس کے متعلق انگریزی حکومت کی طرف سے شائع کردہ مشہور کتاب ہے جو تاریخی سند ہے اس کتاب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس