خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 869 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 869

خطبات طاہر جلدم 869 خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۸۵ء فیصلہ ہوا تو خدا نے ایک اور پیدا کر دیا۔یعنی قرآن کریم کے تراجم ابھی مکمل نہیں ہوتے کہ خدا تعالیٰ آدمی بھیج دیتا ہے کہ اس کا خرچ تو وہ اٹھالے گا۔تو بعض جماعتوں کی طرف سے ، بعض افراد کی طرف سے بڑی درد ناک چٹھیاں آنی شروع ہوئیں اللہ ان کو جزاء دے کہ ہمارے دل کا عجیب حال ہے ایسی بے قرار تمنا پیدا ہوئی ہے، برداشت نہیں کر سکتے ، کاش خدا ہمیں بھی توفیق دے کہ ہم بھی ایک پورے قرآن کریم کے ترجمے کا خرچ اٹھائیں۔ایک دو کی بات نہیں ہے بیسیوں ایسے دوست ہیں جن کے دل میں خدا تعالیٰ نے یہ تمنا تڑپا دی ہے انکے دلوں میں اور بعض جماعتوں نے پھر پیش بھی کر دیا۔چنانچہ لیبیا کے احمدیوں نے اس معاملہ میں پہل کی اور مجھے لکھا کہ ہم میں سے ایک آدمی تو نہیں ہے ایسا لیکن آئندہ ترجمہ قرآن کریم جو شائع ہونے والا ہے اس کے لئے ہم عہد کرتے ہیں ، سارے لیبیا کی جماعت کے دوست، کہ ہم دیں گے۔اور یہ وہ مضمون ہے جو اس آیت نے چھیڑ دیا او نَذَرْتُمْ مِنْ نَّذْرٍ یعنی تم جو نذریں باندھتے ہو۔نذروں کی کئی قسمیں ہیں۔ایک قسم یہ بھی ہے کہ دل میں ایک تمنالے کے بیٹھ جاتے ہو کہ کاش ہمارے پاس ہو تو ہم یہ خرچ کریں۔تو فرماتا ہے کہ اللہ اس کو بھی نظر انداز نہیں کرتا۔ایسی نذریں بھی موجود ہیں جو بظاہر پوری نہیں بھی ہوں گی تو خدا کے حضور پوری ہو چکی ہوں گی۔ایسے مالک سے سودا ہے کتنا عظیم الشان سودا ہے! کوئی نظیر کسی اور سودے میں نظر نہیں آسکتی۔جس کو آپ نے بات پہنچائی تھی فرمایا پہنچ گئی، فرمایا جس کو تم خرچ نہیں کر سکتے وہ بھی قبول ہو گیا میرے حضور اور ہر حال، ہر صورت سے میں واقف ہوں۔پھر میں اسے تمہاری طرف لوٹانا شروع کرتا ہوں تمہاری اصلاح کے ذریعے جو کچھ تم خرچ کر رہے ہو گو یا اپنی ذات پر خرچ کر رہے ہو پھر میں واپس بھی کر دیتا ہوں اور سارا اجرا بھی باقی پڑا ہوا ہے جو آخرت میں تمہیں عطا کروں گا۔اس کا اس اجر کے ساتھ ان معنوں میں کوئی تعلق نہیں کہ اس کھاتے میں سے نفی ہورہا ہو کچھ۔یہ سودے ہیں جو آج خدا کے فضل سے جماعت کر رہی ہے۔جب اس پہلو سے دیکھیں سعادتیں ہی سعادتیں ہیں۔کتنا عظیم احسان ہے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا کہ ایسے لوگ پیدا کئے جو نہ ختم ہونے والے لوگ ہیں اور اس ظالمانہ دور میں پھر ان کو دوبارہ پیدا کر دیا حضرت مسیح موعود کے ذریعے یہ قوت قدسی اس مز کی نفس کی ہے جسے محمد مصطفی اللہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔پس درود بھی بھیجیں بے