خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 870 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 870

خطبات طاہر جلدم 870 خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۸۵ء شمار، کثرت کے ساتھ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ پر بھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی اور ان نیک لوگوں پر بھی سلام بھیجیں جن کو خدا تعالیٰ قربانیوں کی توفیق عطا فرمارہا ہے اور ان کے لئے بھی دعائیں کریں جن کے دل میں نذریں پیدا ہو رہی ہیں اور خدا کی ان پر نظر ہے اور توفیق کیلئے دعا مانگیں کہ خدا تعالیٰ ان کو اپنی دلی تمنا ئیں پوری کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔اس موقع پر دفتر چہارم کا اعلان کرنا تھا ( حضور نے اس پر استنفار فرمایا ) کتنے سال کے بعد دفتر کا اعلان ہوتا ہے؟ انیس سال کے بعد تو یہ بیسواں سال ہے؟ میں ہو چکے ہیں! ہیں سال گزر چکے ہیں دفتر سوئم پر اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم دفتر چہارم کا اعلان کریں۔اس دفتر سے مراد یہ ہے کہ ہر نئی نسل جو میں سال کے بعد پیدا ہو کر بڑی ہو رہی ہے یعنی پورا ہیں سال کے عرصہ میں کامل بلوغت تک پہنچ جاتی ہے ان کے لئے نئے کھاتے شروع ہو جائیں اور نئے سرے سے نئی فہرستیں تیار ہوں۔خاص طور پر پاکستان سے باہر ابھی بہت گنجائش ہے تحریک جدید کے چندہ دہندگان کی تعداد بڑھانے کی اس لئے آج میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان کے ساتھ اور اس کی دی ہوئی توفیق کے مطابق دفتر چهارم کا بھی اعلان کرتا ہوں۔آئندہ سے جو بھی نیا چندہ دہندہ تحریک میں شامل ہوگا وہ دفتر چہارم میں شامل ہوگا۔باہر کی دنیا میں خصوصیت کے ساتھ بچوں کو نئے احمدیوں کو، نئے بالغ ہونے والوں کو اس میں شامل کریں۔معمولی قربانی کے ساتھ ایک بہت عظیم الشان اعزاز آپ کو نصیب ہو جائے گا۔انشاء اللہ تعالی۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: آج نماز جمعہ کے معا بعد دو نماز ہائے جنازہ غائب پڑھی جائیں گی۔ایک نماز جنازہ مکرم خان عبدالمجید خاں صاحب مرحوم کی ہے۔خانصاحب اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایک غیر معمولی تقویٰ اور اخلاص کا مقام رکھتے تھے۔مکرم پروفیسر نصیر احمد خاں صاحب کے اور ڈاکٹر حمید خاں صاحب ( جو ہمارے انگلستان کی جماعت کے مخلص فرد ہیں ) اور مکرمہ طاہرہ صدیقہ ناصر بیگم صاحبہ کے والد ( اور بھی ان کے بچے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ) ان کو خلافت سے اخلاص کا جو تعلق تھا وہ ایک بالکل خاص امتیازی شان رکھتا تھا۔فدائی تھے بالکل اور عاشق صادق تھے۔ساری عمر بڑی وفا کے ساتھ انہوں نے نبھایا ہے اس سلسلہ وفا کو، سلسلہ عشق کو۔اللہ تعالیٰ ان کو اس کی بہترین جزا عطا