خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 864
خطبات طاہر جلد۴ 864 خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۸۵ء امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ پوری ہو جائے گی چوالیس کی بجائے انشاء اللہ پچاس لاکھ تک وعدے پہنچ جائیں گے۔اور بیرون پاکستان میں ستر لاکھ چھتیں ہزار نو سونوے ( RS77,36,990) کے وعدے بھی میں سمجھتا ہوں آگے بڑھ جائیں گے وصولی کے لحاظ سے۔کیونکہ اب تک بیرون پاکستان کی وصولی کا تناسب پاکستان کی وصولی کی نسبت زیادہ بہتر ہے۔جماعتوں کو اب توجہ بھی پیدا ہو رہی ہے تحریک جدید کے چندہ کی طرف۔اس سے پہلے کیونکہ چندہ عام اور وصیت اور بعض دیگر چندے تحریک جدید کے چندے کے مقابل پر بہت زیادہ آگے بڑھ گئے تھے اس لئے تحریک جدید کے چندے کو یہ سمجھا جانے لگا تھا کہ اب یہ زوائد میں سے ہے حالانکہ عملاً یہ بات نہیں ہے۔یہ جتنے چندے بڑھے ہیں یہ سب تحریک جدید کے چندے کے بچے ہیں۔تحریک جدید کے چندے نہ ہوتے ، ان غریب قادیان والوں نے اور ہندوستان کی جماعتوں نے بکریاں بیچ بیچ کر اور کپڑے بیچ بیچ کر اور روپیہ، دو روپے اکٹھے کر کے مہینوں میں اگر نہ دیئے ہوئے تو آج کروڑوں تک بجٹ پہنچ نہیں سکتا تھا اس لئے جو اصل ہے اس کی حفاظت ضروری ہے، اس کو قائم رکھنا ضروری ہے۔جتنے چندے یورپ اور امریکہ اور افریقہ اور دیگر جماعتوں میں اس وقت آپ کو نظر آرہے ہیں یہ سارے تحریک جدید کے ان چندوں کی برکتیں ہیں جو آغاز میں دیئے گئے تھے اور بڑی خاص دعاؤں کے ساتھ دیئے گئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ بھی شامل تھے، اول درجے کے تابعین شامل تھے، مہاجرین الی اللہ شامل تھے جو افغانستان سے یا دیگر جگہوں سے وہاں آکر بس گئے تھے۔ایک عجیب ماحول تھا اس وقت تقویٰ اور نیکی کا۔جس رنگ میں وہاں چندے دیئے جاتے تھے وہ ایک ایسا منظر ہے کہ شاذ و نادر کے طور پر تاریخ میں اس قسم کے مناظر آیا کرتے ہیں۔کئی کئی مہینوں کی تنخواہیں انجمن کے غریب کا رکن دے دیا کرتے تھے۔آج بھی یہ مناظر پھیل رہے ہیں ساری دنیا میں۔بڑے حسین نقوش ظاہر ہو رہے ہیں احمدیت کی برکت سے لیکن ان کا آغاز وہیں سے شروع ہوا ہے قادیان سے، اس کو بھلانا نہیں چاہئے اور تحریک جدید نے جو کر دار ادا کیا ہے اس عظیم الشان مالی قربانی کی رغبت پیدا کرنے میں اسے ہم کسی صورت میں بھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔بہر حال اب جو شکل ہے وہ یہ ہے کہ تحریک جدید کا چندہ تو ایک کروڑا کیس لاکھ یا اس سے کچھ