خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 858
خطبات طاہر جلدم 858 خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۸۵ء جن کے متعلق فرمایا وَ مَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ اَنْصَارِ محمد رسول کریم ﷺ کو جیسے انصار ملے ہیں ان کی شکلیں تو دیکھو یہ بالکل اور چیزیں ہیں۔ظالموں کو ایسے انصار نہیں ملا کرتے تمام دنیا کی قوموں کی مالی قربانیوں کی تاریخ پر نظر ڈالو۔ایسے انصار جن کا ذکر قرآن کریم فرما رہا ہے یہ محمد مصطفی اللہ کے سوا یا ان انبیاء کے سوا جو آپ کی متابعت میں درجے پاگئے اور لوگوں کو نصیب نہیں ہوا کرتے۔جب میں یہ کہتا ہوں کہ متابعت میں درجے پاگئے تو مراد یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفی علی چونکہ مقصود تھے اس لئے باقی انبیاء نے بھی انہی اخلاق حسنہ کی پیروی کی ہے جن کو محمد رسول کریم معدے نے انتہاء تک پہنچایا اور اس طرح ان کو بھی اسلام کے ٹکڑے نصیب ہوئے۔اس لئے کوئی نبی بھی ان معنوں میں اتباع محمد مصطفی علیہ سے باہر نہیں رہتا اور جس نے جو بھی درجہ پایا ہے اسی اتباع کے نتیجہ میں پایا ہے۔پھر فرمایا وَ اللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ اللہ تمہارے اعمال سے بھی خوب واقف ہے یعنی نیتوں سے بھی واقف ہے اور جانتا ہے کہ اچھی نیت ہے، پاک نیت ہے، صاف نیت ہے، خدا کی خاطر ہی خرچ کر رہے ہو اور قومی طور پر بھی خرچ کر رہے ہوا اور انفرادی طور پر بھی خرچ کر رہے ہو اور پھر وہ اعمال کی کمزوریوں سے بھی واقف ہے کیونکہ باوجود اس نیکی کے تمہارے اعمال میں رخنے بھی ہو سکتے ہیں، کئی لحاظ سے کمزوریاں بھی ہوسکتی ہیں اور ہو سکتا ہے کہ لوگ طعنے دیں کہ چندے تو بڑے دیتا ہے لیکن فلاں کمزوری ہے چندوں کا کیا فائدہ ہے اگر فلاں بات میں بدی موجود ہے تو چندوں کا کیا فائدہ؟ اگر فلاں شخص سے اس کا معاملہ ٹھیک نہیں ہے تو چندوں کا کیا فائدہ؟ چندہ دینے والے کو چندہ نہ دینے والے اس قسم کے بہت طعنے دیا کرتے ہیں اور پھر دکھاوے کا الزام لگاتے ہیں کہتے ہیں چھوڑ وجی چندوں کی خاطر ہی جماعت بنی ہے؟ اور بھی تو نیکیاں ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ تمہارے اعمال کی خبر رکھتا ہے اور جانتا ہے کہ ان چندوں کے ساتھ باقی اعمال کا توازن بھی قائم ہونا چاہئے۔جتنا تم مالی قربانی میں آگے بڑھو گے خدا نے اپنے ذمہ لیا ہے کہ تمہاری اصلاح فرما تا چلا جائے گا۔پس یہ ایک دوسرا ثبوت ہے انصار الی اللہ کا، دوسری صفت ہے ان کی ، دوسری خصلت ہے اور اس کے نتیجہ میں خدا کا سلوک ان کے ساتھ بہت احسان والا ہے جو غیر اللہ کی خاطر قربانی کرنے والوں میں نظر نہیں آئے گا۔