خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 856 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 856

خطبات طاہر جلد۴ 856 خطبه جمعه ۲۵ اکتوبر ۱۹۸۵ء صلى الله کوئی چندہ نہیں دے سکتے ۔ ایک جماعتی نظام کے طور پر ہی دیتے ہیں ۔ آنحضرت مہ جب خدا اور بندے کے درمیان بطور رابطہ کے موجود تھے تو صحابہؓ کے لئے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ کے صلى الله آنحضرت : براه راست آن قدموں میں اپنی قربانیوں کولا ڈالنے کے سوا چارہ نہیں تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما اور دیگر قربانی کرنے والے اپنی مالی قربانی کو بعض دفعہ غیروں سے چھپانے کی کوشش میں اسے رت علی کی خدمت میں پیش کر دیا کرتے تھے وہاں سے پھر ان کی اس اس قربانی قر کو شہرت مل جاتی تھی۔ ان کی قربانی کو ظاہر کرنے سے غرض یہ ہوتی تھی کہ تا دوسرے ان کا تتبع کریں۔ قومی قربانیوں کا ان کے اظہار کے ساتھ ایک گہرا ربط ہے۔ یہ مکن نہیں ہے کہ آپ قومی قربانیوں میں حصہ لیں اور اسے اس طرح چھپا لیں اور اگر ممکن ہے بھی تو بہت بعید کی بات ہے کہ کسی فرد بشر کو اس کا علم نہ ہو سکے۔ دوسرا پہلو جو ہے وہ ذاتی اور انفرادی قربانیوں کا ہے۔ انفرادی قربانیوں میں بات کو چھپایا جا سکتا ہے۔ مثلاً جب آپ غرباء کو فقراء کو ، یتیموں کو، بیوگان کو کچھ دیتے ہیں تو اخفا کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں ۔ ایک تو یہ کہ آپ ساری دنیا سے چھپا کے دے سکتے ہیں مگر اس صورت میں کہ جس کو دے رہے ہیں اُس کو پتہ چل جاتا ہے ۔ قرآن کریم نے چونکہ اخفاء کے ساتھ انفرادی قربانیوں کے مضمون کو باندھا ہے اس لئے صحابہؓ نے بھی اس کا یہی مطلب سمجھا اور روایات سے پتہ چلتا ہے کہ بعض دفعہ لوگ رات کو چھپ کے نکلتے تھے اور ایسے شخص کو ڈھونڈتے تھے جو محتاج بھی ہو اور جس کو ضرورت بھی ہو اور اسے پتہ بھی نہ لگے ۔ اب رات کو چھپ کر نکلنا اور یہ فیصلہ کر لینا کہ کوئی ہوئے کہ شخص ضرورت مند ہے یہ دو متضاد چیزیں ہیں، چنانچہ ایسے ایسے دلچسپ واقعات رونما ہو۔ ایک شخص رات کو نکلا ہے اور صدقہ کسی دولت مند کو دے دیا اور وہاں سے دوڑ پڑا کہ اس کو پتہ نہ چلے وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُم کی ایک عجیب تصویر اس وقت کھینچی گئی اور دوسرے دن باتیں شروع ہو گئیں اور لوگ ہنسنے لگے کہ مدینہ میں آج عجیب واقعہ ہوا ہے، آنحضرت ﷺ کا ایک غلام دنیا سے چھپنے کی خاطر کہ بجز خدا کے کسی کو علم نہ ہو سکے رات کو نکلا اور ایک عروسه امیر آدمی کو صدقہ دے کر بھاگ گیا اتنا وقت بھی نہیں دیا کہ وہ شخص کہہ سکے کہ مجھے ضرورت نہیں ہے۔ پھر وہ بیچارہ دوسری رات کو نکلا اور پھر کسی ایسے شخص کو دے دیا جس کو دینا مناسب نہیں تھا۔ تین راتیں وہ اسی طرح مسلسل کوشش کرتا رہا اور آخر تک وہ یہ نہیں سمجھ سکا کہ میں نے کسی صحیح آدمی کو دیا بھی ہے کہ صلى الله