خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 853 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 853

خطبات طاہر جلد۴ 853 خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۸۵ء چوم گیا۔مائیں بھی چومتی ہیں تو ان کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ بچے کو معلوم ہو کہ کس نے اس کا منہ چوما ہے اللہ تعالیٰ ان سارے امکانات کا ذکر اس آیت میں کر کے فرمایا ہے کہ تم محمد علی کے غلام ہونے کی وجہ سے جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو۔اللہ کی خاطر خرچ کرتے ہو اس لئے یہاں یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ سوئے ہوئے بیٹے کا منہ چوم رہے ہو بلکہ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ہمہ وقت جاگنے والے آقا کے قدموں میں تم ایک نذر پیش کر رہے ہو اور وہ ہر حال میں ہر وقت نہ صرف تمہاری مالی قربانی کے ظاہر سے واقف ہے بلکہ اس کے پس پردہ جذبات سے بھی واقف ہے، نہ صرف یہ کہ نیتوں کے اچھے پہلوؤں سے واقف ہے بلکہ نیتوں کے بد پہلو سے بھی واقف ہے۔اس لئے اس آیت میں جہاں ایک حوصلہ دلایا ، ایک یقین دلایا کہ ہماری مالی قربانیاں کسی حالت میں بھی ضائع نہیں جاسکتیں۔جس چہرے کی رضا کی خاطر ہم پیش کر رہے ہیں اسے خوب خبر ہے، وہاں ایک اندار بھی فرما دیا کہ دنیا والوں کو تو تم دھوکا دے سکتے ہو، دنیا والوں کے لئے تو تم یہ کر سکتے ہو کہ خرچ کسی اور مقصد کے لئے کر رہے ہو اور داد طلبی کسی اور سے کر رہے ہو۔بسا اوقات اپنا احسان جتا رہے ہو کسی اور شخص پر اور مقصد بالکل اور ہے۔چنانچہ بڑے بڑے ریا کارایسے ہیں جو غرباء پر خرچ کرتے ہیں اور مقصد یہ ہے کہ قوم میں ان کی ساکھ بیٹھے ، قوم سمجھے کہ یہ ایک بہت ہی ہمدرد انسان ہے۔بڑے بڑے دکھاوا کرنے والے ایسے امیر ہیں جو ٹیلیویژن کے سامنے جانے کی خاطر خرچ کرتے ہیں یا کسی حکومت کے سر براہ سے بعد میں فائدے حاصل کرنے کی خاطر خرچ کرتے ہیں ایسے لوگ خرچ بظاہر نیک کام پر کر رہے ہوتے ہیں ، داد طلبی کسی اور طرف سے ہے اور خرچ کا رخ کسی اور طرف ہے۔اللہ تعالیٰ نے ساتھ ہی یہ بھی تنبیہ فرما دی کہ تمہیں ہمیشہ یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ جس ذات کے نام پر تم خرچ کر رہے ہو وہ تمہارے پس پردہ خیالات سے بھی واقف ہے۔اس لئے اگر وہاں رخنہ ہوا تو وہ خرچ قبول نہیں کیا جائے گا۔چنانچہ اس کے معا بعد یہ فرمایا وَ مَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ أَنْصَارِ اب بظاہر اس آیت کے پہلے ٹکڑے کا اس آیت کے دوسرے ٹکڑے سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔فرمارہا ہے کہ اگر تم خرچ کرو تو ہر حال میں نیک کاموں پر خرچ کرنے کی نیتیں باندھو کیونکہ خدا تعالیٰ تمہارے اس خرچ کے ہر پہلو سے واقف ہے اور ساتھ ہی فرما دیا کہ ظالموں کے لئے کوئی مددگار نہیں۔خرچ کرنے والا تو اچھا ہوتا