خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 854 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 854

خطبات طاہر جلد۴ 854 خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۸۵ء ہے وہاں تو بظا ہر حسین کا ذکر آنا چاہئے تھا یہ وَ مَا لِلظَّلِمِینَ مِنْ أَنْصَارِ کا کیا تعلق ہوا ؟ جب ہم اس پہلو پر غور کرتے ہیں تو بہت ہی وسیع مضمون سامنے آتا ہے جس کے پھر دو پہلو ہیں۔اول حسن کا پہلو یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جس پیغام کو دنیا کے سامنے پیش کیا اور مَنْ أَنْصَارِی إِلَى اللهِ کی دعوت دی تو اس کے نتیجہ میں آپ کے لئے انصارِی اِلَى اللهِ (القف:۱۵) پیدا ہوئے جو ظالموں کو نصیب نہیں ہو سکتے۔اس سے پہلے سورہ صف میں یہ مضمون بیان ہوچکا ہے۔وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرى عَلَى اللهِ الْكَذِبَ وَ هُوَ يُدْعَى إِلَى الْإِسْلَامِ (الصف:۸) وہاں بھی ظالم کہہ کر بظاہر بات کی گئی ہے مگر نیکوں کی طرف سے ان پر لگنے والے الزاموں کا دفاع کیا گیا ہے۔بتایا یہ گیا ہے کہ اگر کوئی ظالم ہو تو خدا تعالیٰ اُس کی نصرت نہیں فرماتا ، وہ ہلاک کر دیا جاتا ہے۔جب کوئی خدا کی طرف سے دعوئی پیش کر رہا ہو اور ہلاک نہ ہورہا ہو اور اس کے انصار الی اللہ پیدا ہو جائیں یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ ظالم نہیں۔پس بظا ہر نفی میں ذکر ہے مگر مضمون اس پہلو سے مثبت بن جاتا ہے۔فرمایا دیکھو حمد مصطفی ملے انفاق فی سبیل اللہ کی دعوت دیتے ہیں اور تم اس انفاق پر لبیک کہہ رہے ہو اور خدا خوب جانتا ہے کہ تم کس شان کے ساتھ لبیک کہہ رہے ہوا اور تمہاری یہ ادائیں، تمہارے خدا کی راہ میں خرچ کرنے کا حسن ، یہ ایسے حسین نظارے ہیں کہ جو انصار الی اللہ میں ہی نظر آیا کرتے ہیں کیونکہ ظالمین کو خدا تعالیٰ انصار الی اللہ عطا نہیں کیا کرتا۔اس مضمون کو پھر اگلی آیتوں میں کھول کر بیان کیا کہ کن انصار کی بات ہورہی ہے۔الله واقع یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی آواز پر خرچ کرنے والے پیدا ہوئے لیکن شبہ پیدا ہوسکتا ہے کہ بعض غلط لوگوں کی غلط تحریکات پر بھی ان کے مددگار پیدا ہو جاتے ہیں اور حکومتیں بھی ان پر خرچ کرتی ہیں، پھر کچھ امراء بھی ایسے ہوتے ہیں جو بدلوگوں پر بدار ا دوں سے خرچ کرتے ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دونوں کی کیا پہچان ہوگئی ؟ جب صورت یہ ہے کہ اس شخص کی آواز پر خرچ کرنے والے تو انصار ہیں جو ظالموں کو نصیب نہیں ہوتے اور دوسری آوازوں پر خرچ کرنے والے انصار نہیں ہیں تو پھر لازماً ان دونوں قسم کے خرچ کرنے والوں کے مابین تمیز ہونی چاہئے۔اس لئے اگلی آیت اس مضمون کو کھولتی چلی جارہی ہیں۔یہ آیات خرچ کرنے والوں میں اتنا بین فرق کر دیتی ہیں کہ جو انصار الی اللہ ہوتے ہیں ان میں اور