خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 847 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 847

خطبات طاہر جلد۴ 847 خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۸۵ء میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ صرف میرے دل کی آواز نہیں بلکہ ہر احمدی کے دل کی یہ آواز تھی۔اگر آپ دعاؤں کے ذریعے اپنے اس عہد کو قائم اور زندہ رکھنے کے لئے خدا سے التجائیں کریں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ یہ عہد ہمیشہ زندہ رہے گا اور اس کے عظیم الشان پھل ہمیں بھی عطا ہوتے رہیں گے اور اہل دنیا کو بھی عطا ہوتے رہیں گے۔خطبہ ثانیہ میں حضور نے فرمایا: اس سفر کے دوران بعض بہت مخلص اور نیک احمدیوں کے وصال کی خبریں ملی ہیں اگر تو میں وہاں ربوہ میں موجود ہوتا میں تو خودان کا جنازہ پڑھا تا۔یہ میری بھی دلی تمنا ہوتی لیکن ان میں سے بھی اکثر کے متعلق یہی اطلاع ہے کہ ان کی دلی تمنا بھی یہی تھی کہ میں ان کا جنازہ پڑھتا اس لئے اکثر تو پاکستان کے ہیں ، ایک فلسطین کے احمدی دوست بھی ہیں ان کے اقرباء کی طرف سے بھی یہی درخواست ملی ہے۔ابھی جمعہ کے بعد ان سب کی نماز جنازہ غائب ہوگی۔سب سے پہلے تو ان میں مکرم چوہدری محمد اسلم صاحب امیر ضلع سیالکوٹ کی افسوسناک اطلاع کی خبر ملی ہے۔آپ کو دل کی تکلیف تو بڑی پرانی تھی مگر اسی حالت میں دورے کرتے تھے۔سلسلہ کے کام خدا تعالیٰ کے فضل سے آخر دم تک پوری تندہی سے سرانجام دیتے رہے اور ابھی بھی ان کی اس وفات میں بھی ایک شہادت کا رنگ اس طرح پایا جاتا ہے کہ دینی سفر پر روانہ ہوئے تھے اور اسی سفر کے دوران آپ کا ہارٹ فیل ہوا ہے۔دوسرے مکرم حسین علی خالد مصاف ہیں جو فلسطین کے ابتدائی احمد یوں میں سے تھے اور نہایت فدائی اور مخلص تھے اور ر پورٹ یہ ہے کہ مبلغین کے ساتھ ہمیشہ تعاون کرتے اور تبلیغی اور تربیتی کاموں میں ہمیشہ ہاتھ بٹانے والے تھے۔تیسرے ہمارے سلسلہ کے ایک پرانے بزرگ، سادہ، نیک مزاج ، دعا گو، تبلیغ کا بے حد شوق رکھتے والے مکرم چوہدری سردار خاں صاحب چٹھہ موبلن کے ضلع گوجرانوالہ کے ہیں۔ان کے بیٹے عبدالقدیر صاحب آج کل ناظر بیت المال قادیان ہیں۔مرحوم موصی بھی تھے اور میں جانتا ہوں۔میں وقف جدید کے خدام الاحمدیہ کے دوروں پر بہت پھرتا رہا ہوں بہت ہی غیر معمولی اخلاص ان کا دیکھا جس سے ہمیشہ بہت متاثر ہوا کرتا تھا۔