خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 848 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 848

خطبات طاہر جلدم 848 خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۸۵ء چوتھے مکرم سید ابوالحسن خورشید بخاری جو الفضل کے بھی خوشنویس تھے اور آج کل وہ خطبات کی کتابت بھی کر رہے تھے۔بڑے محنتی اور سلسلہ سے محبت رکھنے والے تھے۔ایک بیٹا ان کا واقف زندگی ہے اور جامعہ احمدیہ میں طالب علم ہے۔ان کی بھی اچانک وفات ہو گئی۔پانچویں ماسٹر سعد اللہ خاں صاحب فیکٹری ایریا ربوہ بڑے نیک مزاج اور پیار کرنے والے ، محنت کے ساتھ پڑھانے والے ، بڑے ہر دلعزیز استاد تھے احمد یہ ہائی سکول کے استاد تھے۔ہائی سکول سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پرائیویٹ ٹیوشن کے طور پر کام کرتے رہے۔پھر شیخ نذیر احمد صاحب اوکاڑہ یہ ہمارے ناصر شہید کے رشتہ داروں میں سے ہیں۔ان کو بھی تبلیغ کا جنون تھا اور ایک خاص رنگ تھا انکی تبلیغ کا جودشمنوں کے اندر بھی جا کر ان کے دلوں کو نرم کر دیا کرتا تھا۔پھر ایک ہماری خاتون ہیں۔خواجہ فضل احمد صاحب جو پیچھے اسلام آباد میں رہے ہیں ان کی بیگم امتہ الحئی صاحبہ۔ان کے متعلق تو میرا یہی علم تھا کہ اچھی صحت ہے، ٹھیک ہیں۔عمر بھی زیادہ نہیں تھی۔پتہ نہیں کیا تکلیف ہوئی ہے۔اچانک ان کی وفات کی بھی اطلاع ملی ہے۔انوری بیگم صاحبہ ڈاکٹر سردار علی صاحب ربوہ کی بیگم۔ان کی بھی وفات کی ان کے بیٹے نے اطلاع دی ہے یہ ہمارے ہمسائے میں ربوہ میں رہا کرتے تھے ایک زمانہ میں کرایہ پر مکان لے کر۔بڑے مخلص دوست تھے ان کی بیگم بھی اللہ کے فضل سے بڑی متقی اور تہجد گزار تھیں۔پھر مکرم چوہدری علی احمد صاحب جو جماعت میں بی۔اے بی ٹی سے مشہور ہیں جن کے ایک بیٹے عبدالسلام اختر صاحب واقف زندگی تھے۔ان کی بیگم سیدہ رشیدہ بیگم صاحبہ کی وفات کی بھی اطلاع ملی ہے۔ان کے تین بیٹے یہاں انگلستان میں بھی رہتے ہیں۔ان سب کے علاوہ ایک ابھی اطلاع ملی ہے کہ صوفی رحیم بخش صاحب زیروی کی بیگم سارہ بیگم بھی وفات پاگئیں ہیں یہ محترم مولوی ابوالعطاء صاحب کی ہمشیرہ تھیں اور موصیہ تھیں۔یہ بھی بہت دین کے کاموں میں رغبت رکھنے والی اور قربانی کرنے والی تھیں۔یہ بہت قیمتی وجود ہیں جو ہم۔الگ ہوئے ہیں ان سب کی نماز جنازہ جمعہ کے بعد ہوگی۔خطبہ ثانیہ کے بعد فرمایا: سے