خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 845
خطبات طاہر جلدم 845 خطبه جمعه ۱۸ / اکتوبر ۱۹۸۵ء ہے جنہوں نے خون دے کر اسلام کی عظمتوں کے لئے ایک عظیم الشان سلطنت قائم کی اور ان محروموں کا خون بھی اس میں ملا ہوا ہے جو بدقسمتی سے ایسے زمانے میں داخل ہوئے کہ جب وہ اپنی وراثت کی حفاظت بھی نہیں کر سکتے تھے۔اس عظیم الشان غازیوں نے ورثے میں جود ولتیں عطا کیں ان کی حفاظت کرنے کے بھی وہ اہل نہ رہے تھے۔تو وہاں وہ قبرستان کیا تھا وہاں سپین کا مشرق بھی تھا اور سپین کا مغرب بھی تھا۔جہاں سے سورج طلوع ہوتا تھا وہ جگہ بھی دکھائی دے رہی تھی اور جہاں سورج غروب ہو گیا تھا وہ جگہ بھی دکھائی دے رہی تھی۔اس وقت میں نے دعا کی کہ اے خدا! یہ لوگ تو مٹی ہو گئے ان کے ظاہری بدن تو مٹی ہو گئے لیکن ان کی روحیں تیرے حضور زندہ ہیں۔میری آواز براہ راست تو ان تک نہیں پہنچ سکتی لیکن میری آواز کو تو ان تک پہنچا سکتا ہے اس لئے آج میں ان کو ایک پیغام دیتا ہوں تمام جماعت احمدیہ کی طرف سے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلیفہ کے حیثیت سے ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے یہ پیغام ان کو دیتا ہوں کو کہ اگر چہ تم مر گئے اور زیرزمین جاسوئے لیکن در حقیقت میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ تم نہیں بلکہ سارا سپین مرگیا تم ہی زندگی کے نشان تھے۔تم ہی وہ تھے جو اس چمنستان کی زینت تھے ، اس کی رونق تھے، تمہارے دم قدم سے پین کی آبادیاں تھیں ، تمہاری آوازوں کے ساتھ خدا کی تکبیر یہاں بلند ہوا کرتی تھی ، تمہاری پیشانیوں پہ وہ نور تھا جو سجدہ کرنے والوں کی پیشانیوں کو عطا ہوا کرتا ہے پس اگر چہ تم آج نہ خاک جاسوئے ہو اور تمہارے ظاہری وجود کا کوئی بھی نشان باقی نہیں سوائے ان گڑھوں کے جو بے ڈھیلوں آنکھوں کی طرح بے نور گڑھے دکھائی دے رہے ہیں اور بظاہر یہ اسلام کی موت دکھائی دیتی ہے مگر میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ جس طرح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے معرفت کا یہ نکتہ بیان کیا تھا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر دو موتیں جمع نہیں ہوسکتیں آپ کے ماننے والوں پر بھی دو موتیں جمع نہیں ہوسکتیں۔ان کے جسم تو مر سکتے ہیں مگر ان کے دین کو نہیں مرنے دیا جائے گا۔پس میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ ساری جماعت احمدیہ اس بات کا عہد کر رہی ہے اور اس عہد کو ہمیشہ نبھاتی رہے گی کہ جب تک اسلام دوبارہ سپین میں اسی شان کے ساتھ دوبارہ زندہ نہ ہو بلکہ اس سے بڑھ کرشان کے ساتھ دوبارہ زندہ نہ ہو جس طرح پہلی بار سپین میں زندہ ہوا تھا ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ہم مسلسل جد و جہد کرتے رہیں گے۔ہم مسلسل ا