خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 841
خطبات طاہر جلدم 841 خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۸۵ء موجودگی کا احساس پیدا ہو سکتا ہے۔اس وقت ضرورت ہے کہ اس رنگ میں وہاں کام کیا جائے اور مبلغین کو بھی میں نے سمجھایا ہے کہ دانشوروں سے رابطہ اور اپنے احمدی دوستوں کے ذریعہ مجالس کا انعقاد جہاں مبلغ جائے اور سوال و جواب کی مجالس لگائے اور ذاتی رابطہ ہو جو کھویا نہ جائے بار باران سے ملاقاتیں ہوں اور ان کو بار بار سمجھایا جائے۔اس طرح محنت کے ساتھ ایک ایک بیج بونے کی ضرورت ہے۔یہ نہیں کہ گزرتے ہوئے ہواؤں میں آپ چھٹا دے دیں اور پھر بھول جائیں کہ اس بیج کا کیا بنا۔وہ زمین میں داخل بھی ہوا کہ نہیں اور اگر ہوا بھی تھا تو جڑیں نکل بھی آئیں تو اس میں روئیدگی جو پیدا ہوئی، اس کی آبیاری کس نے کی؟ جانور تو نہیں چر گئے اگر آبیاری کسی نے کی بھی تھی۔بے شمار ایسے مسائل ہیں جو نباتاتی مسائل ہیں لیکن روحانی دنیا پر بھی اطلاق پاتے ہیں۔اس لئے اب تو ضرورت ہے کہ ایک ایک درخت کاشت ہو اور اس کی حفاظت کی جائے مسلسل اس سے رابطہ رہے اور اس وجہ سے مجھے اب اس وقف عارضی کے پروگرام کو بدلنا پڑے گا۔اب تو ہمیں ایسے واقفین کی ضرورت ہے جو جا کے کسی ایک جگہ ٹھہر کے ذاتی دوستیاں بنائیں اور پھر وہاں ٹھہرے رہیں اور تعلقات بنا ئیں پھر ان کو اپنے پاس آنے کی دعوت دیں۔ذہانت کے ساتھ مطالعہ کریں کہ کون سے لوگ ہیں جن میں اس قدر سنجیدگی پائی جاتی ہے کہ وہ مذہب کا مطالعہ کریں۔ان کے خیالات کو Excite کریں ان کو روحانیت کا پیغام دیں ، ان کے لئے دعائیں کریں اور ان کے اندر دعا کی طلب پیدا کریں اور ان کو بتائیں کہ ہمارا ایک خدا ہے۔یہی آج اس قوم کے دل کی آواز ہے کہ اگر خدا ہے تو کہاں ہے؟ اور وہ کیوں ہم سے رابطہ نہیں رکھتا ؟ تو ذاتی رابطہ اور بہت سنجیدگی کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھانا پھر جلد از جلد خدا کی طرف لے کے آنا اور اس سلسلہ میں دعاؤں پر زور دے کر ان پر ثابت کرنا کہ روحانیت کوئی فرضی چیز نہیں ہے بلکہ ایک زندہ حقیقوں میں سے ایک زندہ حقیقت ہے اور ان کو یہ بتانا کہ دیکھو دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ہم تمہارے ساتھ چلتے ہیں تمہیں دکھاتے ہیں کہ وہ کون سا خدا ہے جس نے ہم سے رابطہ کیا ہے۔اس قسم کے واقفین ہیں جو وہاں کامیاب ہوسکیں گے اور اسی نہج پر آئندہ سپین میں کام کرنا چاہئے ورنہ تو سپین کی باہر کی دنیا ایک بالکل مردہ دنیا ہے۔وہاں غرناطہ میں جب وہ سوال کر رہے تھے تو مجھے خیال آیا کہ بالکل یوں معلوم ہوتا ہے کہ