خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 840 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 840

خطبات طاہر جلدم 840 خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۸۵ء ہیں تو دلوں میں داخل ہوتا ہوا نظر آرہا ہوتا ہے۔اور کبھی ایسا نہیں ہوا، الا ماشاء اللہ اتفاق سے ہزار میں سے کبھی ایک ضدی نکل آئے تو وہ اور بات ہے ورنہ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ شدت سے سوال کرنے والا پوری شدت اور غصے اور جذبہ سے سوال کرے اور پھر پوری شدت اور جذبہ کے ساتھ بعد میں تائید نہ کرے۔سر ہلا ہلا کر بھی اور خوشی کے ویسے اظہار سے، ہر رنگ میں ان کی کیفیت بدل جاتی ہے، اسلامی تصورات کے لئے اُن کی آنکھوں میں محبت پیدا ہو جاتی ہے۔چنانچہ غرناطہ میں بھی یہی نظر آیا لیکن اس میں ابھی بہت کام ہے، اتنا وسیع کام کرنے والا ہے کہ جس کی وجہ سے طبیعت پر بہت ہی افسردگی کہنا چاہئے یا احساس غم اور دکھ کا کہ ہم کس طرح یہ کریں گے اور ہم کیا کریں اور کتنی جلد ہونا چاہئے اور ہم کیا کر سکتے ہیں؟ اپنی بے بضاعتی کی طرف توجہ اور کام کی شدت اور اس کی وسعت اور زمانے کی رفتار اور پھر اپنے پاس جو کچھ ہے۔کس قسم کے ہمیں آدمی چاہئیں ، کس قدر وسیع رابطہ ہمیں کرنے کی ضرورت ہے۔بے شمار ایسے موازنے تھے جو ذہن میں ابھرتے تھے اور طبیعت کو شدید طور پر بے چین کر دیتے تھے۔چنانچہ میں نے وہاں غور کیا تو اب یہ نتیجہ نکالا ہے کہ واقفین عارضی جس طرح جا کر وہاں کام کرتے ہیں۔اس وقت ویسے کام کی ضرورت نہیں ہے۔محض آپ علاقے میں پھر کر اشتہار تقسیم کر دیں اور اس کے بعد پھر دوسرا واقف زندگی کسی اور جگہ جائے اور پھر وہ کچھ لوگوں میں اشتہار تقسیم کر جائے۔اس کو ضرور لطف آتا ہے اور اس طرح ایک دفعہ پیغام بھی پہنچ جاتا ہے لیکن اس کے نتیجہ میں اہل سپین سے گہرا رابطہ قائم ہو جائے یہ بات درست نہیں ہے۔جہاں تک وسیع پیمانے پر Publicity کا تعلق ہے وہ تو خدا کے فضل سے پہلے ہی ہمیں وہاں مل رہی ہے ریڈیو کے ذریعہ ، ٹیلی وژن کے ذریعہ اور اخبارات کے ذریعہ۔میر صاحب اس معاملہ میں بڑے ماہر ہیں اور انہوں نے بڑا وسیع رابطہ رکھا ہوا ہے۔ان کے آنے سے پہلے بھی ہمارے مولوی کرم الہی صاحب ظفر نے بھی ایسے نا مساعد حالات میں جبکہ کچھ بھی ان کے پاس نہیں تھا انہوں نے بھی یہ رابطہ بڑی عمدگی کے ساتھ قائم کیا۔ان کے بڑے نیک اثرات تھے جو ہم نے افتتاح کے وقت محسوس کئے تو دونوں مبلغ اس فن کے ماہر ہیں اور اسلام کی آواز مختلف ذرائع سے وسیع پیمانے پر اس قوم تک پہنچ رہی ہے لیکن اس سے تبدیلی پیدا نہیں ہوسکتی۔اس سے صرف ہماری