خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 837 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 837

خطبات طاہر جلد۴ 837 کی طرف ان کا رحجان خدا کے فضل سے پہلے سے بھی بڑھ کر ہے۔خطبه جمعه ۱۸ / اکتوبر ۱۹۸۵ء دوسرا اس تقریب میں جو نمایاں فرق تھا وہ یہ تھا کہ بجائے اس کے کہ ایک لمبی تقریر کی جاتی نہایت مختصر الفاظ میں میں نے ان کو خوش آمدید کہا اور ان کو موقع دیا کہ وہ جس قسم کے سوال اسلام پر یا اپنے مسائل پر کرنا چاہتے ہیں وہ کریں۔چنانچہ اس سے یہ تقریب خدا کے فضل سے بہت ہی پر لطف اور بھر پور رہی۔اس کثرت سے دوستوں کی طرف سے پھر سوال شروع ہوئے کہ آخر پر پھر مجھے خود ہی روکنا پڑا کیونکہ بعد میں مہمانوں کی چائے سے تواضع بھی کرنی تھی۔بعض ایسے معزز مہمان تھے جو معین وقت کو مد نظر رکھ کر آئے تھے اور انہوں نے اپنی دوسری تقریبات میں بھی جا کر حصہ لینا تھا۔بہر حال اگر چہ وقت زیادہ بھی ہو گیا تھا لیکن یہ سارے لوگ ٹھہرے رہے ان میں سے کوئی بھی نہیں گیا۔چند ایک نے چائے میں شمولیت سے معذرت کی کیونکہ انکو پہلے ہی بہت دیر ہو چکی تھی مگر تقریب کے دوران خدا کے فضل سے تمام احباب مرد، عورتیں اور بچے پوری طرح توجہ کے ساتھ بیٹھے رہے اور بعض مواقع پر تو بڑی نمایاں انہوں نے Response دی ہے۔یعنی ان کا طریق ہے تالیاں بجانے کا تالیاں بجا کر بھی اور پھر کھڑے ہو کر تالیاں بجا کر بھی بڑے جوش کے اظہار سے انہوں نے اپنی محبت کا اپنے رنگ میں اظہار کیا۔وہاں اخبارات کی نمائندگی کے علاوہ مختلف قسم کے ریڈ یوٹیشن ہیں جن کی طرف سے میر صاحب کو بار بار ٹیلیفون پر بلایا جاتا تھا کہ Running Commentary کرو اور بتاؤ کہ تقریب میں کیا ہورہا ہے، کون کون آئے ہیں ، کیا مقصد ہے اور کہتے تھے کہ آپ فون پر جو باتیں کہہ رہے ہیں یہ براہ راست نشر ہورہی ہیں۔چنانچہ اسی دوران پانچ چھ مرتبہ میر صاحب کو بار بار توجہ دینی پڑی اور کئی ریڈیوسٹیشنز نے ان کا Live Interview نشر کیا اور ریڈیو اور ٹیلی وژن جو ہم سے خبریں لے کر گئے وہ انہوں نے بہر حال بعد میں نشر کرنی تھیں، لائیو پروگرام یہاں سے ممکن نہیں تھا۔اخبارات کی Response بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت اچھی تھی کیونکہ جو اخبار میر صاحب نے دکھایا تھا اس میں خدا کے فضل سے بہت ہی اچھا Coverage تھا لیکن وہ بتارہے تھے کہ بعد میں ہم اکٹھا کر کے انشاء اللہ تراجم کر کے بھیجیں گے۔غرناطہ میں جو تقریب تھی یہ عوامی دعوت کی تقریب نہیں تھی کیونکہ ان کو تاکید کی گئی تھی کہ ہوٹل