خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 824 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 824

خطبات طاہر جلدم 824 خطبه جمعه ۴ را کتوبر ۱۹۸۵ء اور بڑی دور دور تک دنیا میں اس کے اثرات ہیں۔اٹلی کی دو طرح کی اہمیتیں ہیں۔ایک تو اس کی بعض نو آبادیات ہیں جن پر اٹلی کی تہذیب کا، اٹلی کی زبان کا بڑا گہرا اثر ہے اور دوسرے یہ کہ اٹالین قوم میں یہ خصوصیت ہے کہ بعض ملکوں میں چینیوں کی طرح اپنی نو آبادیاں سی بنا کر رہتے ہیں۔اور بڑی بڑی ان کی Colonies ہیں امریکہ میں اور بعض غیر قوموں اور غیر علاقوں میں بھی ان کے بہت زبر دست اثرات ہیں اس لئے اٹالین قوم میں اسلام کا داخل ہونا اسلام کے لئے اور بھی بہت سی فتوحات کے دروازے کھولے گا۔یورپ کی بہت اہم قوم ہے جسے اب تک ہم پیغام صحیح معنوں میں نہیں پہنچا سکے۔تو اس کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو احسن رنگ میں اسلام کی چہرہ نمائی کی توفیق بخشے اور جلد از جلد اس قوم کے دل اسلام کے لئے پھیرے۔ایک اور اہمیت اس کو یہ ہے کہ یہ تثلیث کا گڑھ ہے اور پوپ کا مرکز ہے اور صلیب تو ڑنا اگر اس طرح ہو کہ مرکز کو چھوڑ کر ارد گر د صلیب ٹوٹنی شروع ہو جائے اور مرکز کی صلیب قائم رہے تو یہ پیشگوئی پھر صحیح معنوں میں پوری نہیں ہوتی۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کی اس پیشگوئی کو صحیح معنوں میں پوری طرح اس زمانے میں ثابت کرنے کے لئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ اٹلی میں صلیب کو تو ڑا جائے۔اگر اٹلی میں صلیب ٹوٹ جائے تو ساری دنیا میں صلیب ٹوٹ جاتی ہے کیونکہ یہ پوپ کی جگہ ہے ، ان کے روحانی خلیفہ کی جگہ ہے اور یہاں سے ساری دنیا میں ان کے مبلغین جاتے ہیں اور شرک کا فساد پھیلاتے ہیں۔یہاں سب سے زیادہ ضرورت تھی جہاں اب تک ہمارا مرکز نہیں تھا اس لئے بھی مجھے اس کی خاص طور پر ایک تڑپ تھی کہ یہاں جلد سے جلد مشن کھولنا چاہئے۔چنانچہ وہاں جب سوالات ہوئے تو ان میں سے ایک سوال یہ بھی تھا کہ آپ یہاں کیا کرنے آئے ہیں اور کیا کریں گے؟ اس پر میں نے ان کو جواب دیا کہ آپ یہ کیا باتیں کر رہے ہیں آپ کو یہ حق ہے کہ لاکھوں مشن آپ نے ساری دنیا میں کھولے ہوئے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ آپ کے ساتھ ساری دنیا میں حسن سلوک ہو اور یہاں ایک اسلام کا مشن آپ سے برداشت نہیں ہورہا اور آپ کی بھنویں اوپر چڑھ گئیں ہیں کہ آپ یہاں کیا کریں گے۔چنانچہ اس جواب کا کافی اثر پڑا چہروں پر اور کچھ چہروں پر ملامت کے آثار بھی نظر آتے دیکھے اور ایک موقع پر جب ہم اکٹھے بعد میں