خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 821
خطبات طاہر جلدم 821 خطبه جمعه ۴ را کتوبر ۱۹۸۵ء دیکھیں گے کہ ان کی کیفیت بدل جاتی ہے۔چنانچہ وہاں سے رخصت ہونے کے بعد اگلا سفر ہمارا اٹلی کا تھا۔اٹلی میں کوشش یہ ہے کہ پہلا احمد یہ مشن اب قائم ہو جائے۔آج تک اس سے پہلے کوئی جگہ بھیجماعت احمد یہ اٹلی میں نہیں لے سکی۔ایک زمانہ میں مولوی شریف صاحب تھے ان کو بطور مبلغ بھجوایا گیا تھا لیکن وہ بھی ایک عارضی سا تجربہ رہا آج کل وہ بیمار ہیں، صاحب فراش ہیں اٹلی میں وہیں آباد ہو گئے تھے لیکن با قاعدہ مبلغ نہیں رہ سکے اور مشن قائم نہیں ہو سکا اس لئے حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کو بھی اٹلی کے متعلق بڑی خواہش تھی کہ وہاں مشن قائم ہو۔اوڈے میں ایک جگہ تلاش کی گئی ، بڑی دیر تک اس کی پیروی بھی کی گئی لیکن بالآخر کامیابی نہیں ہو سکی۔تو اس لئے اٹلی کا دورہ خاص طور پر ایک مشن کی تلاش کا دورہ تھا۔اس سے پہلے ایک قصبہ جس کا نام ویرونا ہے یہ شمالی اٹلی میں تقریباً شمال کے وسط میں ایک صاف ستھرا اور وسیع قصبہ ہے جو بہت بڑا شہر تو نہیں تین لاکھ کے قریب آبادی ہے لیکن یونیورسٹی ٹاؤن ہونے کیلحاظ سے اور بعض خصوصیات اس کو حاصل ہیں۔پھر وہ شمالی علاقہ بڑا خوبصورت ہے لوگ سیروں کے لئے آتے ہیں ان وجوہات سے اسے ایک خاص مقام حاصل ہے۔پھر Shakespeare نے جو Romeo and Julit کا جو ڈرامہ لکھا ہے وہ اسی علاقے سے تعلق رکھتا ہے اور جن لوگوں نے وہ ڈرامہ پڑھا ہوا ہے انگریزی کے علاوہ بھی بے شمار زبانوں میں اس کے ترجمے ہوئے ہوئے ہیں ان کو ایک طبعی دلچسپی ہے کہ Romeo and Julit کا علاقہ آ کے دیکھیں۔پھر وہاں بعض بہت ہی خوبصورت Lakes ہیں۔Lakes District کہلاتا ہے اٹلی کا اور اس کے بالکل قریب ہی پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر وہLakes شروع ہو جاتی ہیں تو اس لحاظ سے اس علاقے میں ہمیں دلچسپی تھی کہ ساری دنیا کا ٹورسٹ آتا ہے۔لوگ صاف ستھرے ہیں مزاج کے بہت اچھے ہیں، بعض گندی عادتیں جو بعض دوسرے اٹلی کے علاقوں میں ہیں وہاں نہیں ہیں۔دوکاندار لین دین میں صاف ہیں، چوری شاذ کے طور پر ہے۔ورنہ جنوب میں تو بہت زیادہ چوری ہوتی ہے، عام فراڈ نہیں کرتے ، اچھی خصلتوں کے مالک لوگ ہیں ، بہت مذہبی ہیں۔اس خیال سیجو ہم نے آخری وفد بھجوایا تو اس نے وہاں ایک جگہ تلاش کی۔ہمارے وکیل التبشیر مکرم منصور احمد خاں جو آج۔