خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 817 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 817

خطبات طاہر جلدم 817 خطبه جمعه ۴ را کتوبر ۱۹۸۵ء کہ اللہ انشاء اللہ اپنے فضل کے ساتھ کس طرح اور مزید مشکلات کو جماعت کے لئے حل فرماتا چلا جائے گا۔زیورک میں جہاں تک نئی جائیداد کا تعلق ہے وہ تو وہاں نہیں خریدی گئی نہ اس سفر سے پہلے اس قسم کا کوئی خیال ہی تھا لیکن چونکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت وسعت پذیر وہاں بھیجے اس لئے وہاں کی موجودہ عمارت کی توسیع کرنے کے لئے ایک پروگرام بنایا گیا تھا۔چنانچہ وہاں آرکیٹیکٹ (Architect) تشریف لائے ہوئے تھے، ان سے اور بعض جماعت کے دوسرے دوستوں سے مشورہ کے بعد قانون جس حد تک بھی وسعت کی اجازت دے سکتا ہے اس حد تک اس عمارت میں توسیع کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔جس کے نتیجہ میں اب خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدی خواتین کے لئے ایک کافی وسیع کمرہ مل جائے گا جس کی کمی کی وجہ سے بہت تکلیف پہنچا کرتی تھی اور ان کے بچوں کے لئے ان کو جب نماز میں حاضر ہوں تو کوئی خاتون ان بچوں کو کھلائیں اور ان کا بہلائیں تا کہ نمازوں میں بچوں کے شور کی وجہ سے خلل واقع نہ ہو۔ان کے بچوں کے لئے ایک الگ کمرہ رکھ دیا گیا ہے۔ان کے وضو وغیرہ کرنے کے لئے علیحدہ جگہ ، چھوٹا سا ایک باورچی خانہ بھی مہیا کر دیا گیا ہے یعنی آئندہ کے Plan میں۔اسی طرح مردوں کے لئے الگ چھوٹا سا باورچی خانہ ، آئے گئے کے لئے چائے بنانے وغیرہ کے لئے اور غسلخانوں کا انتظام، مزید رہائش کے کمرے ، گویا کہ قانون جس حد تک بھی وسعت کی اجازت دے سکتا ہے اس زمین کی نسبت سے انشاء اللہ تعالیٰ اس مشن کو وسعت دے دی جائے گی۔جہاں تک لوگوں کا تعلق ہے جماعت کے لئے خدا تعالینے اس قدر دل نرم کر دیئے ہیں کہ اب جومیر امختصر قیام تھا اس میں بھی بالکل صاف نظر آرہا تھا کہ اک نئی رو جماعت کی طرف توجہ کی پیدا ہورہی ہے۔بنیادی طور پر پروگرام میں دو حصے تھے۔ایک معززین شہر کو ایک ہوٹل میں دعوت دی سیتھی اور اس میں بڑے بڑے چوٹی کے جو مختلف ممالک ہیں، بڑی بڑی طاقتیں کہلاتی ہیں ان کے جو نمائندے وہاں زیورک میں موجود تھے وہاں اور چھوٹے ممالک جو ہیں جو بیچارے Third World Countries کہلاتے ہیں ان کے نمائندوں کو بھی بلایا گیا۔چوٹی کے صحافیوں کو بھی بلایا گیا۔چوٹی کے وکلا اور دوسرے دانشوروں اور پروفیسروں وغیرہ کو بلایا گیا اور توقع سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے دعوت کو قبول کیا اور بعض بڑی بڑی طاقتوں کے نمائندے بھی موجود تھے۔افریقہ کے