خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 810
خطبات طاہر جلدم 810 خطبه جمعه ۲۷/ ستمبر ۱۹۸۵ء عہد کرنا ہے حقیقی دل کے ساتھ کہ سال کے اندر انشاء اللہ ایک احمدی ضرور بناؤں گا اور پھر دعا شروع کر دے تو یہ ہرگز مشکل نہیں یہ بھی ایک فطری بات ہے۔کچھ عرصہ پہلے سیر یا شام کے دونو جوان یہاں تشریف لائے ہوئے تھے ، وہ نئے احمدی ہوئے ہیں بہت ہی غیر معمولی جوش ان کے اندر تبلیغ کا پایا جاتا ہے اور یہ بات صرف ان میں ہی نہیں عام عربوں میں بھی دیکھی گئی ہے کہ جو احمد ی ہوتا ہے اس قدر محبت اس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام سے ہو جاتی ہے کہ ان کو دیکھ کر رشک آتا ہے۔کاش جماعت کے ہر فرد میں ایسا لگہمی عشق کا رنگ پیدا ہو جائے۔چنانچہ ان دو نو جوانوں میں سے ایک نے کہا کہ میرے دل میں تو سوائے اس کے اور کوئی ترکیب نہیں آرہی کہ ہر احمدی یہ عہد کرے کہ وہ سال میں ایک احمدی ضرور بنائے گا۔میں نے کہا تم نے میرا کوئی خطبہ سنا ہے یا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی کوئی کتاب پڑھی ہے جس میں یہ ذکر تھا یہ خیال کس طرح آیا۔اس نے کہا کہ یہ ترکیب خدا تعالیٰ نے خود میرے دل میں ڈالی ہے اور کہا کہ میں عہد کرتا ہوں بلکہ میں تو زیادہ عہد کر رہا ہوں اس نے کہا کہ میں تو انشاء اللہ تعالی زیادہ بناؤں گا لیکن ہر احمدی ایک بنائے اور یہ کہہ کر اس نے کہا کہ میں نے بہت سوچا ہے اور بہت غور کیا ہے کہ یہ بہت ہی آسان کام ہے بالکل مشکل نہیں۔معمولی سی توجہ اور دعا کے ساتھ ایک انسان کوشش کرے تو اس کو پھل مل جاتا ہے۔تو جو چیز آسان ہو جو چیز ہماری دسترس میں ہو اس کو نہ لینا جبکہ اللہ کی تقدیر وہ پھل ہاتھ میں پکڑانا چاہتی ہو یہ بڑی محرومی ہے۔ایک موقع پر گجرات کی بات ہے وہاں ایک جماعت میں میں نے ان کو جا کر سمجھایا تبلیغ کے متعلق گفتگو کی تو ان کو میں نے مثال دی میں نے کہا آج کل ہوا چلی ہوئی ہے یہاں بھی خدا کے فضل سے اور تم سوچ نہیں رہے کہ تمہاری مثال کیا ہے کافی بیچارے ست تھے اس لئے مجھے ان سے تھوڑی سی سختی بھی کرنی پڑی میں نے کہا تمہاری مثال تو ان دوا فیمیوں کی سی ہوگئی ہے۔جو ایک بیری کے درخت کے نیچے لیٹے ہوئے تھے اور افیم کے نشے میں دھت۔ایک کے پاس ایک اچھا سا موٹا سا بیر آ کے گرا تو اس نے دوسرے دوست سے کہا کہ بیر ذرا میرے منہ میں ڈال دو۔اس نے کہا جاؤ جاؤ اپنا کام آپ کرو میں آرام سے لیٹا ہوں۔خیران کی رات گذرگئی کچھ عرصے کے بعد ایک مسافر جارہا تھا۔مسافر گھوڑے پر سوار جارہا تھا کہ اس شخص نے اس کو آواز دی۔اس نے کہا بھائی ذرا اتر و ایک بات سن جاؤ ضروری۔اس بیچارے نے اتر کر درخت سے اپنا گھوڑا باندھا۔