خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 809 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 809

خطبات طاہر جلد۴ 809 خطبه جمعه ۲۷/ ستمبر ۱۹۸۵ء سکتے کیونکہ ظاہری طور پر زمین بھی وسعت پذیر ہے، روحانی طور پر جماعت کے پھیلاؤ کے لحاظ سے بھی وسعت پذیر ہے، مختلف قوموں کے اندر توجہ پیدا کرنے کے لحاظ سے بھی زمین وسعت پذیر ہے اور اس کے علاوہ آسمان پر کئی فیصلے ہورہے ہیں۔خدا تعالیٰ کی تقدیر اپنے طور پر کام کر رہی ہے جس کا مستقبل سے تعلق ہے اور ہم نہیں جانتے کہ کس کس رنگ میں خدا تعالیٰ کے فضل نازل ہوں گے اور کس کس رنگ میں جماعت کو نئی وسعتیں عطا ہوں گی لیکن یہ میں ضرور جانتا ہوں کہ جب آسمان حرکت میں آجائے جب خدا تعالیٰ کی تقدیر فیصلہ کرے کہ میں نے اس جماعت کو بہر حال بڑھانا ہے اور عزت دینی ہے۔اس وقت جماعت کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ضرور خدا کی تقدیر کے ساتھ چلے، اس کے مخالف نہ چلے۔آج جو بھی آپ میں سے بیٹھ رہنے والا ہے وہ مخالف چلنے والے کے مترادف ہوگا۔چند قدم اس سمت میں اٹھائیں یہ تیز ہوائیں آپ کو خود آگے کھینچ کر لے جائیں گی۔بہت سے آثار ایسے نظر آرہے ہیں، بہت سی خوشخبریاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی مل رہی ہیں کہ جن سے میں سمجھتا ہوں کہ بہت جلد جلد اللہ تعالیٰ اس جماعت کو بڑھانے والا ہے۔یہاں جو تجربہ ہواوہ بھی بہت ہی خوشکن تھا۔لیکن اس کا ذکر میں انشاء اللہ آئندہ کسی خطبہ میں کروں گا جو غالبا سپین میں ہوگا۔بہر حال اس وقت میں اس کو اتنا ہی مختصر کرتا ہوں کہ ہر احمدی ہر جہت میں تبلیغ کی کوشش کرے۔بچے بھی کوشش کریں، مرد بھی کوشش کریں، عورتیں بھی کوشش کریں، ابھی تک جو میں نے جواندازہ لگایا تھا کہ اتنی خدا تعالیٰ کی فوج ہے جو اگر میدان میں کود پڑے تو عظیم انقلاب برپا ہو جائے اس کا دسواں حصہ بھی ابھی تک میدانِ عمل میں نہیں اترا۔جب میں دوستوں سے ملتا ہوں سرسری جائزہ لیتا ہوں تو یہ معلوم کر کے افسوس ہوتا ہے کہ ابھی تک بہت سے دلوں میں صرف خواہشات ہی پیدا ہورہی ہیں عملاً ان کو ابھی توفیق نہیں ملی اور جماعت کی بھاری طاقت ابھی تک میدان عمل میں نہیں اتری۔حالانکہ وقت بڑی تیزی سے ہاتھ سے گزر رہا ہے۔زمانے میں انقلاب آنے والے ہیں تمام دنیا میں بہت بڑی بڑی تبدیلیاں پیدا ہونے والی ہیں اور ان کے لئے جتنی تیاری کا وقت تھا وہ تیاری ابھی ہم پوری نہیں کر سکے اس لئے ہر احمدی جس تک میری آواز پہنچتی ہے وہ خود اپنا نگران بن جائے۔اس کے ساتھ میں تو ہر وقت پھر نہیں سکتا، نہ تو کوئی میرا نمائندہ ، مبلغ پھر سکتا ہے لیکن خدا اس کے ساتھ ہمیشہ رہتا ہے۔اس لئے اپنے خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ عہد کرے کہ میں نے یہ