خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 808 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 808

خطبات طاہر جلد۴ 808 خطبه جمعه ۲۷/ ستمبر ۱۹۸۵ء گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ ان کے ساتھ پھر خوب گفتگو ہوئی اور انہوں نے بتایا کہ ہمارے اندر پاکستانی ملاؤں نے اور بعض دوسرے لوگوں نے آپ کے خلاف اتناز ہر بھرا ہوا ہے کہ آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ کس قسم کا لٹریچر ہم تک یہ پہنچاتے ہیں اور یک طرفہ باتیں سن سن کے ہم تو آپ سے شدید متنفر ہیں اوراب جو دیکھا ہے ہمیں کچھ اور بات نظر آئی اب ہمیں دلچسپی پیدا ہوئی کہ ہم پوچھیں تو سہی یہ کون ہیں؟ کیا بات ہے؟ چنانچہ اسی مجلس میں وفات مسیح کے متعلق سارے کے سارے قائل ہو گئے ایک نے بھی انکار نہیں کیا اور خاتم النبیین کے متعلق جماعت احمدیہ کی تشریح پر جب گفتگو ہوئی تو ایک دوست تھے جنہوں نے کہا کہ ابھی میں تحقیق مزید کرنی چاہتا ہوں اور چار دوسرے دوست تھے جنہوں نے تائید میں سر ہلانا شروع کر دیا کہ ہاں یہ مسئلہ ہمیں سمجھ آ رہا ہے اور وہ جو دوست تھے جن کا میں ذکر کر رہا ہوں۔ان کے نام پتے میں نہیں بتانا چاہتا حکمت کے خلاف ہے مگر یہ اپنے علاقوں کے اچھے معزز لوگ ہیں اور اتنی گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے کہ اپنے پتے دیئے ہیں اور یہ وعدہ کیا ہے کہ ہم جولٹریچر بھیجیں گے سب کا مطالعہ کریں گے۔کیسٹس سنیں گے اور پھر اگر کوئی سوال ہمارے دل میں پیدا ہوا تو پھر لکھیں گے کہ اس بارے میں ہماری تسلی نہیں ہوئی تا کہ آپ کو موقع دے سکیں تسلی کرانے کا اور ایک صاحب ان میں سے جو او پر ہمارے مردانہ کمرہ تھا اس میں تشریف لائے۔ساتھ کھانا بھی کھایا اور پھر اس کے بعد محبت پیار کے رنگ میں اظہار کرتے رہے تو جس جس جگہ یہ زمین تنگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہاں وہاں خدا ہمیں زمینیں عطا فرما رہا ہے۔عربوں کو ہم سے دور کرنے کی بڑی شدید کوشش کی گئی تھی۔جیسا کہ انہوں نے ہی ہمیں بتایا اس کے علاہ بھی بعض دوسرے عرب دوست جو بیعتیں کرتے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے بڑی شدید نفرت پیدا کر رکھی ہے۔آپ لوگوں کے خلاف اتنا جھوٹ بولا جاتا ہے کہ وہ یک طرفہ سن سن کر ہم سمجھتے ہیں کہ آپ کا دین ہی کچھ اور ہے اور انہی لوگوں میں سے خدا تعالیٰ اب یہ از خود پھل عطا کر رہا ہے ان کے علاقوں میں پہلے احمدیوں پر ظلم ہوا کرتے تھے جن کا میں ذکر کر رہا ہوں۔اب میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ ان کے رویے بالکل بدل جائیں گے۔جس خدا کا یہ وعدہ ہے کہ هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْاِحْسَانُ اس کی زمین نہ صرف وسعت پذیر ہے بلکہ ہر جہت میں وسعت پذیر ہے اس کی وسعتوں کا آپ اندازہ کر ہی نہیں