خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 800
خطبات طاہر جلدم 800 خطبه جمعه ۲۷ ستمبر ۱۹۸۵ء ہے۔اس کا رقبہ ساڑھے چھ ایکڑ ہے اور بہت ہی خوبصورت علاقے میں واقع ہے۔اردگرد چونکہ جنگلات ہیں اور سیر گاہیں ہیں اور پرندے پالنے کی خوبصورت جگہیں ہیں اس لئے اس جگہ یہ خطرہ کوئی نہیں کہ ہمسایوں کو کوئی اعتراض ہو کہ لوگ کثرت سے آتے ہیں اور ان کے آرام میں مخل ہوتے ہیں۔پورے جوش کے ساتھ پورے زور کے ساتھ نعرہ ہائے تکبیر بلند ہوتے رہے اور قطعاً اس بات کا کوئی احتمال نہیں تھا کہ ہمسایوں کو اس پر کسی قسم کا اعتراض ہو۔وہاں ایک بنی بنائی عمارت بھی ساتھ ہی مل گئی۔جس کو خدام نے بڑی محنت کے ساتھ اور بڑے ولولے کے ساتھ بہت اچھی حالت میں ایسی شکل میں بنادیا کہ ایک حصہ اس کا خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایک وسیع مسجد کے طور پر استعمال ہونے لگا ہے اور یہ مسجد کا رقبہ جونئی جگہ ملی ہے یہ فرینکفرٹ کی پہلی مسجد کے مقابل پر بہت زیادہ ہے۔اسی طرح مستورات کے لئے بھی وہاں جگہ موجود ہے۔پہلے سے ہی غسل خانوں وغیرہ کا انتظام تھا اور اسے اور بھی بہتر کر دیا گیا ہے۔ایک مبلغ کی رہائش کی جگہ بھی بنی بنائی مل گئی تھی مگر اس وقت اس کی حالت خراب تھی خدام نے بڑی محنت کی ہے اور بہت کم خرچ پر اسے نہایت اعلیٰ حالت میں تبدیل کر دیا ہے۔اسی طرح گیٹ اور بیرونی جالی وغیرہ کے اوپر خدام نے بڑی محنت کی ہے اور حیرت انگیز طور پر جماعت کے پیسے بچائے ہیں۔مثلاً وہ گیٹ جس کے لئے با قاعدہ بنانے والے چھ ہزار مارک طلب کر رہے تھے ہمارے احمدی نوجوانوں نے بارہ سو میں سامان خرید کر مکمل کر دیا ہے اور بہت خوبصورت گیٹ بنایا ہے۔اسی طرح بیرونی دیوار کے لئے جالی تلاش کر کے حاصل کر لی اور اللہ تعالیٰ کا فضل ایسا ہوا کہ وہ جالی پھینکنے کے لئے لے جائی جارہی تھی حالانکہ نہایت ہی عمدہ حالت میں تھی اور چونکہ گورنمنٹ کے ، حکومت کے بعض دفاعی محکموں کے معیار اتنے بلند ہیں کہ بیرونی دیوار کی جالی کی معمولی سی بھی حالت خراب ہو تو اسے پھینکوا دیتے ہیں ایک احمدی دوست کو پتہ چلا تو انہوں نے کہا ہمیں چاہئے ، اس کی ضرورت ہے۔تو انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت ہے تو ہم نے پھینکنی ہی ہے ہم آپ کے گھر آپ کے ساتھ چھوڑ آئیں گے۔چنانچہ ان کے ٹرک جالیاں لاد کے تین ٹرک بھر کے وہاں پہنچ گئے اور بجائے پھینکنے وہ نہایت ہی عمدہ استعمال میں آگئی۔بازار سے کافی خرچ کرنے کے بعد قیمتاً جونئی جالی ملتی ہے اس سے وہ بہت بہتر حالت میں ہے اور بہت مضبوط اور موٹی بنی ہوئی ہے۔بہر حال اس جگہ پر وہاں کی جماعت نے خدام نے بھی اور انصار نے بھی اور لجنات