خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 795
خطبات طاہر جلد ۴ 795 خطبه جمعه ۲۰ ستمبر ۱۹۸۵ء اگر آپ نہیں بڑھائیں گے یہ کہہ کر ، یہ بہانے ڈھونڈ کر کہ ہمیں زبان نہیں آتی ، ہمیں علم نہیں ہے تو یہ سارے بہانے ہیں۔ ایک چیز جو آپ کو آتی ہے اور آسکتی ہے وہ اللہ سے تعلق ہے۔ تعلق پیدا کریں گے تو آپ کے اندر چٹک سے ایک چیز کھل جاتی ہے جیسے غنچہ کھلتا ہے اس طرح آپ کے رکے ہوئے دل میں ایک غنچہ کھل جائے گا آپ اس کی چٹک محسوس کریں گے۔ پتہ لگ جائے گا کہ میرے ساتھ ایک واقعہ ہو گیا ہے جس نے مجھے بدل دیا ہے۔ اس واقعہ کے نتیجہ میں پھر جو کچھ ہونا ہے ہوتا ہے۔ اس لئے ہر احمدی نوجوان جو یہاں آیا ہوا ہے بڑی تکلیفیں اٹھا کر آیا ہے۔ بعض لوگ اپنی جائیدادیں بیچ کر جو رہی سہی بیچاروں کے پاس تھیں بیچ کر آگئے ہیں ۔ بعضوں کے ماں باپ نے قرضے اٹھا لئے ہیں۔ آئے تو اس لئے ہیں کہ وہاں کی تکلیفوں سے نجات پائیں، ہر روز کی جواذیتیں تھیں ان سے نجات پائیں اور آزاد ملک میں جا کر باعزت روزی کمائیں اور پھر اپنے والدین کے قرضے اتاریں اور ان کی مصیبت دور کریں یہ نیتیں ہیں لیکن یہاں خدا نے اس سے بھی بڑھ کر خزانہ آپ کے لئے رکھا ہے۔ حضرت موسی آگ لینے گئے تھے لیکن نو ر الہی ان کو نصیب ہو گیا۔ تو یہ بھی جماعت پر ایک موسوی دور ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں واضح طور پر ملتا ہے کہ ایک موسوی دور تم پر آنے والا ہے ( تذکرہ صفحہ : ۳۶۶)۔ تو آپ اس دور کے نمائندہ ہیں ، اس دور کے نشان ہیں۔ آپ بھی گھروں سے آگ لینے کے لئے نکلے تھے لیکن خدا یہاں نور دینے کے لئے بیٹھا ہوا ہے۔ یہاں آپ کو نئے نور سے ے منور منور کے کرنے کے لئے بیٹھا ہے ہے ۔ اس لئے کیوں آگ پر راضی ہو جاتے ہیں؟ اس نور کی طرف لپکیں جو آپ کا منتظر بیٹھا ہوا ہے۔ آپ کے لئے ہر ہجرت کی جگہ کوہ طور بن جائے گی کیونکہ خدا نے اپنے الہامات میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو واضح بشارتیں دی ہیں کہ ایسا دور آنے والا ہے اور مجھے تو صاف دکھائی دے رہا ہے کہ وہ دور آ چکا ہے۔ یہاں بھی آپ کا مشن اتنا چھوٹا ہو چکا ہے کہ اگر اس علاقے کی ساری جماعت آجائے تو ناممکن ہے کہ اس چھوٹے سے کمرے میں اکٹھے ہو جائیں اور بہت تکلیف نظر آتی ہے۔ جب گزشتہ دفعہ آیا تھا تو اس دفعہ بھی یہی حالت تھی۔ اب اس سے بھی زیادہ خراب حالت ہے اور بیچاری مستورات کے لئے تو بالکل ہی جگہ کوئی نہیں ۔ ان کے لئے ٹینٹ بھی جو لگایا ہوا تھا اس میں اس طرح ٹھونسی ہوئی تھیں جرمن خواتین بھی اور دوسری بھی کہ دم گھٹتا تھا۔ پھر بچوں کے شور سے وہاں ایک