خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 792 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 792

خطبات طاہر جلدم 792 خطبه جمعه ۲۰ / ستمبر ۱۹۸۵ء ملتی ہے کہ جن کو آپ سب سے زیادہ سخت سمجھتے تھے وہ آج احمدیت کے لئے سب سے زیادہ نرم ہو گئے ہیں۔کہیں اتنی جلدی کوئی قوم بیعت نہیں کر رہی جتنی جلدی اب عرب کر رہے ہیں۔میں یہ باتیں آپ کو اس لئے بتارہا ہوں کہ اب آپ کا فرض ہے کہ اس پکے ہوئے پھل کو محفوظ کریں اور سنبھالیں۔جب خدا کی طرف سے پھل پکنے کے وقت آتے ہیں تو ان کو سنبھالنا ایک بڑی ذمہ داری ہو جایا کرتا ہے اور جو لوگ سنبھال نہیں سکتے ان کا پھل پھر ضائع ہو جاتا ہے ، گل سڑ جاتا ہے، اپنے ہاتھ نہیں آتا بلکہ پھر دوسرے جانور کھا جاتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ آج کے زمانے میں پرانی تہذیب ، پرانے تجربوں سے سب انسان مایوس ہیں ،کسی کو سکون میسر نہیں ہے اور اگر ان کو صحیح معنوں میں ایسے لوگ ملیں جن کا تعلق خدا سے ان کو محسوس ہو، یہ ایک بنیادی شرط ہے تو ان کی طرف وہ بہت تیزی سے مائل ہوں گے۔ورنہ فرضی باتوں کی طرف وہ مائل نہیں ہوں گے۔فرضی باتیں تو انہوں نے پہلے بھی بہت دیکھی ہیں اور ان فرضی باتوں سے تنگ آئے پڑے ہیں۔اس لئے عملاً خدا تعالیٰ کا قرب جو انسان کی شخصیت میں تبدیلی پیدا کر دیا کرتا ہے وہ قرب پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور اگر آپ یہ کر لیں تو ایک عظیم الشان تاریخی انقلاب میں آپ حصہ لینے والے بن جائیں گے اور یہ وہ کام ہے جو بظاہر بہت ہی بڑا مشکل نظر آتا ہے کیونکہ انسانی زندگی کا مقصود سب سے اوپر کا کام ہے لیکن سب سے آسان بھی ہے کیونکہ اگر میں آپ کو کہوں کہ علم کے لحاظ سے مبلغ بنیں تو اس کے لئے تو بہت ہی پاپڑ بیلنے پڑیں گے۔زبانیں سیکھنی پڑیں گی اور عربی کی بنیادی تعلیم حاصل کرنی پڑے گی ، قرآن کریم کا مطالعہ ہے، احادیث کا مطالعہ ہے، گزشتہ علماء نے کیا کچھ لکھا مفسرین نے کیا لکھا، فقہ کے ماہرین نے کیا لکھا اور جماعت احمدیہ کے لٹریچر میں کیا کیا کچھ ہے اور ان علماء کے پاس جو ہماری مخالفت کرتے ہیں کیا دلائل ہیں اور ہم اس کا کیا جواب دیتے ہیں۔علم کا اتنا وسیع میدان ہے اور پھر اسلام کے دشمن مذاہب کیا کہتے ہیں اور ان سے کیسے نبٹ سکتے ہیں۔یہ تو لگتا ہے ایک لامتناہی رہے۔عام آدمی کی طبیعت سوچتی ہے تو گھبرا جاتی ہے کہ یہ تو میرے بس کی بات نظر نہیں آتی لیکن تعلق باللہ میں یہ ایک عجیب بات ہے کہ جس لمحے آپ فیصلہ کرتے ہیں کہ میں خدا کا ہونا چاہتا ہوں اسی لمحے خدا آپ کا ہو جاتا ہے۔کوئی روک حائل نہیں ہوتی ، کوئی پر دہ بیچ میں حائل نہیں ہوتا اور جب کسی کو خدا مل جاتا ہے تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اس کے اندر ایک عظیم انقلاب برپا نہ ہو، اس کی سمندر