خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 791 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 791

خطبات طاہر جلدم 791 خطبه جمعه ۲۰ / ستمبر ۱۹۸۵ء رہی۔اللہ تعالیٰ ساتھ ساتھ دل بھی بدل رہا ہے۔اس کے بعد کولن پہنچا۔جس کا جو اصل تلفظ ہے وہ تو میرے لئے بڑا مشکل ہے کولن کر کے کچھ کہتے ہیں یہاں کے جرمن لیکن ہمارے عام دوست کولن کہ دیتے ہیں یا کولون تو جو بھی ہے کولن شہر مشہور ہے ، سب کو پتہ ہے۔وہاں کی ارد گرد کی جماعتوں کے لئے کوئی مرکز نہیں تھا۔چنانچہ ان کی خواہش تھی کہ ہمیں بھی کوئی مرکز لے کر دیا جائے۔مرکز تو آج سے چند مہینے پہلے ان کو لے دیا گیا مگر مجھے پہلی دفعہ دیکھنے کا موقع ملا۔وہ عمارت بھی خدا کے فضل سے بہت وسیع عمارت ہے، اتنی وسیع کہ آپ کے پرانے دونوں مراکز ہیمبرگ کا مشن اور فرینکفرٹ کا مشن دونوں مل کر بھی اس کا ایک حصہ بنتے ہیں اور ابھی وہ ساری عمارت ہمارے پاس نہیں ہے۔اس کا رقبہ سات ہزار مربع فٹ ہے جو تعمیر شدہ رقبہ ہے۔اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کتنی وسیع عمارت عطا فرمائی ہے اور تین منزلیں ہیں۔اوپر کی منزل میں ابھی بننے کی گنجائش ہے۔نیچے کی منزل میں دونوں طرف جہاں سے داخلے کا رستہ ہے اس کے دونوں طرف وسیع ہال ہیں اور وہ ابھی کرایے پر ہیں اور کرایہ بھی چار ہزار مارک مہینہ کا ہے تو ہیں ہزار روپے ماہانہ ان کا کرایہ بھی ساتھ مل رہا ہے اور جب ہماری ضرورتیں پھیلیں گی تو ہم اس عمارت کو خالی کروائیں گے۔وہاں بھی اللہ تعالیٰ نے بڑا رحجان پیدا کر دیا ، ہماری توقع سے بہت زیادہ مہمان تشریف لائے۔میر تو وہاں موجود نہیں تھے مگر ہمارے علاقے کے جو حکومت کے افسر اعلیٰ ہیں حکومت کی طرف سے وہ وہاں تشریف لائے ہوئے تھے۔بہت لمبا عرصہ وہاں بھی سوال و جواب کی مجلس چلتی رہی اور سارے دوست بڑی گہری دلچسپی لیتے رہے۔کھانے کے بعد بھی ٹھہر گئے اور کھانے کے بعد بھی پھر ایک مجلس لگ گئی بعض دوست مزید باتیں کرنا چاہتے تھے۔جوان کے دلوں کی کیفیت نظر آئی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وقت اسلام کے پھیلنے کے وسیع امکانات پیدا ہو گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فرشتے دلوں کو تبدیل کر رہے ہیں اور یہ ساری ابتلاء کی برکت ہے۔اس جگہ میں پہلے بھی آتا رہا ہوں خلافت سے پہلے بھی ، خلافت کے بعد بھی اور اس قسم کے عمومی رحجانات کہ عربوں میں بھی ، یوروپینز میں بھی اس طرح توجہ پیدا ہوئی ہو اور جماعت کے لئے نرم گوشے پیدا ہو گئے ہوں یہ پہلے کبھی نظر نہیں آیا۔عربوں میں تو خدا کے فضل سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی تحریک